
جھارکھنڈ کے سیجوا میں پھر پھٹی زمین، معصوم کی موت
دھنباد، 08 ستمبر (ہ س)۔
جوگتا تھانہ علاقے کے سیجوا 10 نمبر میں منگل کی صبح قریب ساڑھے پانچ بجے اچانک زمین دھنسنے کے شدید واقعے سے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ زمین دھنسنے کی زد میں آنے سے کئی مکانات زمین بوس ہو گئے، جبکہ آس پاس کے علاقے میں زمین پرگہری دراڑیں پڑ گئیں۔ حادثے میں دو بچوں سمیت نصف درجن خواتین زخمی ہو گئیں۔ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال پہنچایا گیا، جہاں دورانِ علاج ایک معصوم کی موت ہو گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ منگل کی صبح جب زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے، تبھی اچانک زور دار آواز کے ساتھ زمین کا ایک بڑا حصہ دھنس گیا۔ اچانک زمین دھنسنے سے لوگوں میں دہشت پھیل گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی گھر اس کی زد میں آ کر زمین دوز ہو گئے۔ حادثے کے بعد مقامی لوگوں نے راحت اور بچاو کا کام شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو اسپتال پہنچایا۔ حادثے کے بعد موقع پر بڑی تعداد میں مقامی لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی۔ مقامی لوگوں نے بی سی سی ایل اور ضلع انتظامیہ کے خلاف غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی فوری بازآبادکاری اور مناسب معاوضے کا مطالبہ کیا۔ لوگوں کا الزام ہے کہ علاقے میں طویل عرصے سے کوئلے کی کان کنی اور زیرِ زمین سرگرمیوں کے سبب زمین کمزور ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود خطرے والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی بازآبادکاری کی سمت میں موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد باگھمارا کے رکن اسمبلی شتروگھن مہتو موقع پر پہنچے اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کر کے صورت حال کی معلومات حاصل کی۔ رکن اسمبلی نے زمین دھنسنے کے واقعے کے لیے ریاستی حکومت اور بی سی سی ایل کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ خطرے والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے تحفظ اور بازآبادکاری کے حوالے سے سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
وہیں، مقامی لوگوں نے بتایا کہ صبح اچانک زمین دھنسنے سے کئی گھر اس کی زد میں آ گئے۔ حادثے میں ایک بچے کی موت ہوئی ہے، جبکہ کئی لوگ زخمی ہیں۔ لوگوں نے انتظامیہ اور بی سی سی ایل سے متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر بسانے اور مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
حادثے کے خلاف مشتعل لوگوں نے کتراس-سیجوا مین روڈ کو جام کر دیا۔ سڑک جام ہونے سے آمد و رفت متاثر رہی۔ مقامی لوگ مستقل بازآبادکاری اور تحفظ کے مطالبے پر بضد رہے۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف اور غم و غصے کا ماحول ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن