تلنگانہ میں اسمبلی کے باہر خاتون ارکان اسمبلی کے خلاف تذلیل آمیز رویہ
تلنگانہ میں اسمبلی کے باہر خاتون ارکان اسمبلی کے خلاف تذلیل آمیز رویہحیدرآباد، 8 ستمبر(ہ س)۔ ریاست تلنگانہ قانون سازاسمبلی اجلاس کے دوران، اسمبلی کے باہرکافی ہنگامہ آرائی ہوئی۔ اس دوران بی آرایس کی دوخاتون ارکان اسمبلی کے خلاف بے رحمانہ رویہ اپنایا
تلنگانہ میں اسمبلی کے باہر خاتون ارکان اسمبلی کے خلاف تذلیل آمیز رویہ


تلنگانہ میں اسمبلی کے باہر خاتون ارکان اسمبلی کے خلاف تذلیل آمیز رویہحیدرآباد، 8 ستمبر(ہ س)۔ ریاست تلنگانہ قانون سازاسمبلی اجلاس کے دوران، اسمبلی کے باہرکافی ہنگامہ آرائی ہوئی۔ اس دوران بی آرایس کی دوخاتون ارکان اسمبلی کے خلاف بے رحمانہ رویہ اپنایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق تلنگانہ اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچنے والی بی آرایس کی خاتون نمائندوں کوجب پولیس نے زبردستی اور طاقت کے زور پر روکا تو وہاں شدید افراتفری پھیل گئی ۔ اس پورے ہنگامے کے دوران سابق وزیرداخلہ سبیتا اندراریڈی کوگرفتارکرنے کے عمل میں پولیس ملازمین نے بالکل بے دردی کامظاہرہ کیا۔ انہیں بالوں سے پکڑ کر زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک اورسابق وزیر سنیتا لکشماریڈی جب اسمبلی کے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہی تھیں توپولیس اہلکاروں نے ان کی ساڑی کھینچ لی۔ اس اچانک کارروائی سے وہ صدمے میں آگئی اورمیڈیا کے سامنے سڑک پرہی زاروقطار آنسو بہانے لگیں۔ اس واقعے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سنیتا لکشماریڈی نے انتہائی غم وغصے کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن تلنگانہ اسمبلی کی تاریخ کا سب سے سیاہ اورشرمناک ترین دن ہے۔ انہوں نے انکشاف کیاکہ ہم تومردقائدین کی طرح سیاہ ٹی شرٹ بھی نہیں پہنی تھیں۔لیکن جب ہم نے پولیس سے بلاوجہ روکنے کی وجہ طلب کی توانہوں نے ہمارے ساتھ توہین آمیزسلوک کیا۔دوسری جانب سبیتااندراریڈی نے شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن اور خواتین کو جمہوری ملک میں احتجاج کرنے یاایوانوں میں داخل ہونے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande