
نئی دہلی، 07 ستمبر (ہ س):۔
سپریم کورٹ ازدواجی زیادتی کو جرم کے دائرے میں لانے کے مطالبے سے متعلق درخواستوں پر 9 ستمبر کو ہی سماعت کرے گی۔ پیر کو سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے اس معاملے کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ سے کہا کہ اس معاملے میں مرکزی حکومت کا جواب داخل نہیں ہوا ہے، اس لیے سماعت 9 ستمبر کے بجائے نومبر میں کی جائے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ 9 ستمبر کو ہی اس معاملے پر فیصلہ کرے گی۔
اس معاملے میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے ازدواجی زیادتی کو جرم کے دائرے میں لانے کے مطالبے والی درخواستوں کی مخالفت کی ہے۔ موجودہ قانون کے مطابق بیوی کی مرضی کے بغیر زبردستی جسمانی تعلق قائم کرنے پر بھی بیوی اپنے شوہر کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ درج نہیں کرا سکتی۔ حکومت نے قانون میں شوہر کو حاصل اس استثنا کی حمایت کی ہے۔
مرکزی حکومت نے زور دے کر کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ازدواجی تعلقات میں بیوی کی مرضی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر شوہر بیوی کی مرضی کے بغیر زبردستی جسمانی تعلق قائم کرتا ہے تو ایسی صورت میں شوہر کو سزا دینے کے لیے پہلے سے متبادل قانونی دفعات موجود ہیں۔ ایسی صورتحال میں گھریلو تشدد کے قانون اور خواتین کی عزت و وقار مجروح کرنے سے متعلق مختلف دفعات کے تحت شوہر کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔
تاہم حکومت کے مطابق اس صورتحال کا موازنہ اس معاملے سے نہیں کیا جا سکتا جہاں ازدواجی تعلق کے بغیر کوئی مرد زبردستی کسی خاتون کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرتا ہے۔ ازدواجی تعلقات اور ازدواجی تعلق کے بغیر قائم ہونے والے ایسے تعلقات میں سزا یکساں نہیں ہو سکتی۔
سپریم کورٹ نے 16 ستمبر 2022 کو مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ عدالت کو یہ طے کرنا ہے کہ شوہر کا بیوی کے ساتھ زبردستی جسمانی تعلق قائم کرنا عصمت دری کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ اس سے قبل 11 مئی 2022 کو دہلی ہائی کورٹ نے ازدواجی زیادتی کے معاملے پر منقسم فیصلہ دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ