
امپھال، 7 ستمبر (ہ س)۔ منی پور کے ناگا اراکین اسمبلی نے پیر کے روز اسمبلی کے جاری اجلاس کے آخری اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ اراکین نے لیلون ویفئی کے مبینہ اغوا اور قتل کے معاملے میں انصاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ناگا رکن اسمبلی اوانگبو نیومئی نے آج کہا کہ معاملے میں انصاف یقینی نہ بنائے جانے کے احتجاج میں اراکین نے ایوان کی کارروائی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیومئی نے الزام عائد کیا کہ عینی شاہدین کے بیانات میں کوکی نیشنل فرنٹ-پی (کے این ایف۔پی) کے ایک رہنما کی مبینہ شمولیت سامنے آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص ریاست کی نائب وزیر اعلیٰ نیمچا کِپگن کے شوہر ہیں۔ انہوں نے پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات اور ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ناگا اراکین اسمبلی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک نیمچا کِپگن کو نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا جائے۔
یہ پیش رفت منی پور میں مسلح گروہوں اور شہریوں پر حملوں سے متعلق الزامات کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے ماحول میں سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل نائب وزیر اعلیٰ لوسی ڈِکھو سمیت نو ناگا اراکین اسمبلی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرکے کوکی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔لیلون ویفئی کے مبینہ قتل کا معاملہ ناگا اراکین اسمبلی کے لیے ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ وہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
منی پور کی 12ویں اسمبلی کے آٹھویں اجلاس کا آغاز 2 ستمبر کو ہوا تھا اور پیر کو اس کا آخری دن تھا۔تاہم، نیمچا کِپگن کے شوہر اور کے این ایف-پی کے خلاف عائد کیے گئے الزامات ابھی ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ ان الزامات کی تصدیق تحقیقات اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan