
فرید آباد، 7 ستمبر (ہ س)۔ سائبر پولیس اسٹیشن بلبھ گڑھ پولیس نے فرید آباد میں ایک خاندان کو ڈیجیٹل گرفتاری کی دھمکی دے کر 2.13 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کے الزام میں پنجاب کے زیرک پور سے ایک ڈرائیور اور ایک اکاونٹنٹ کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم گوتم (27) اور موہت (25) ہیں، دونوں لدھیانہ، پنجاب کے رہائشی ہیں۔ پولیس کے مطابق گوتم کے کھاتے میں دھوکہ دہی سے 65,000 روپے موصول ہوئے۔ اس نے اپنا بینک اکاونٹ موہت کو دے دیا تھا اور موہت نے مزید یہ اکاونٹ سائبر بدمعاشوں کو دستیاب کرایا تھا۔ پولیس ترجمان یشپال نے کہا کہ گوتم 11 ویں پاس ہے اور ڈرائیور کے طور پر کام کرتا ہے۔ دوسری طرف موہت بی کام پاس ہے اور ایک نجی کمپنی میں اکاونٹنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ دونوں کو پیر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے گوتم کو جیل بھیج دیا، جبکہ موہت کو پانچ دن کے پولیس ریمانڈ پر لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق 13 جنوری 2026 کو متاثرہ تاجر راکیش کی بیوی کے موبائل فون پر کال آئی۔ کال کرنے والے نے اپنی شناخت محکمہ ٹیلی کام کے ایک اہلکار کے طور پر کی اور کہا کہ اس کے آدھار سے منسلک بینک کھاتے میں 20 لاکھ روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی ہے۔ اس کے بعد کال کو ممبئی کرائم برانچ کے مبینہ افسران سے جوڑا گیا۔ دھوکے باز شوہر اور بیوی کو مسلسل ویڈیو کال پر رکھتے تھے اور انہیں گھر سے باہر نہیں جانے دیتے تھے۔ ہر دو گھنٹے بعد ان کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جاتی تھی۔ملزم نے مختلف سرکاری ایجنسیوں کے اہلکار بن کر گرفتاری کی دھمکی دی۔ دھوکے بازوں نے متاثرہ کو ای ڈی کے نام پر جعلی گرفتاری کے احکامات اور سپریم کورٹ کے نام پر جعلی خطوط بھیجے۔ بینک کھاتوں میں جمع کی گئی رقم کو تحقیقات کے نام پر مذکور کھاتوں میں منتقل کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ دھوکے بازوں نے 48 سے 72 گھنٹوں میں رقم واپس کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ گرفتاری کے خوف سے متاثرہ نے جنوری 2026 میں مختلف بینک کھاتوں میں مجموعی طور پر 2.13 کروڑ روپے منتقل کیے۔ بعد میں، دھوکے بازوں کے موبائل نمبر اس وقت بند پائے گئے جب انہوں نے رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد متاثرہ نے سائبر پولیس اسٹیشن بلبھ گڑھ میں شکایت درج کرائی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی