یو جی سی کے ضوابط کے خلاف احتجاج کی اجازت پر 14 ستمبر تک فیصلہ کرے دہلی پولیس: ہائی کورٹ
نئی دہلی، 07 ستمبر (ہ س )۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے کہا ہے کہ وہ جنتر منتر پر ریزرویشن اور یو جی سی کے ضوابط کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت دینے کے بارے میں 14 ستمبر تک فیصلہ کرے۔ جسٹس امیت مہاجن کی بنچ نے یہ حکم دیا۔ چھتریہ کرنی سینا 20 ستم
یو جی سی کے ضوابط کے خلاف احتجاج کی اجازت پر 14 ستمبر تک فیصلہ کرے دہلی پولیس: ہائی کورٹ


نئی دہلی، 07 ستمبر (ہ س )۔

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے کہا ہے کہ وہ جنتر منتر پر ریزرویشن اور یو جی سی کے ضوابط کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت دینے کے بارے میں 14 ستمبر تک فیصلہ کرے۔ جسٹس امیت مہاجن کی بنچ نے یہ حکم دیا۔ چھتریہ کرنی سینا 20 ستمبر کو جنتر منتر پر احتجاج کرنا چاہتی ہے۔ عدالت نے کرنی سینا سے کہا ہے کہ وہ پولیس کو اپنی درخواست دے۔ پولیس 14 ستمبر تک اس پر فیصلہ کرے گی اور اسے اپنے فیصلے کی اطلاع دے گی۔ پولیس جو بھی شرط عائد کرنا چاہے، عائد کر سکتی ہے۔ اس سے پہلے کرنی سینا نے 6 ستمبر کو احتجاج کی اجازت مانگی تھی، لیکن پولیس نے برکس سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے انکار کر دیا تھا۔

ہائی کورٹ نے 3 ستمبر کو درخواست گزار سے کہا تھا کہ آپ احتجاج کی تاریخ بدل لیجیے۔ 6 ستمبر کی تاریخ میں خاص کیا ہے؟ اگر پولیس اس تاریخ پر رضامند نہیں ہے تو آپ دوسری تاریخ مقرر کر لیجیے۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اگر آپ تاریخ بدلتے ہیں تو وہ دہلی پولیس کو سنے بغیر احتجاج کی اجازت دے گی۔ اس وقت کرنی سینا کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا تھا کہ وہ اس سے پہلے بھی ایک بار تاریخ بدل چکے ہیں اور یہ ان کی دوسری تاریخ ہے۔ کرنی سینا نے کہا کہ ان کی یہ پدیاترا ہے جو جنتر منتر پر ختم ہوگی۔ تب عدالت نے کہا تھا کہ وہ دہلی پولیس کا موقف جاننے کے بعد ہی اس پر غور کرے گی۔

یہ درخواست کرنی سینا کے سربراہ راج شیکھاوت نے دائر کی تھی۔ کرنی سینا نے یو جی سی کے ضوابط کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ اس کے لیے دہلی پولیس کو 27 اگست کو خط لکھ کر کہا گیا تھا کہ وہ پ±رامن احتجاج کریں گے۔ 28 اگست کو دہلی پولیس نے ان کی درخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ برکس سربراہی اجلاس کی تیاری چل رہی ہے۔ کرنی سینا نے دہلی پولیس کے اسی حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande