
واشنگٹن، 6 ستمبر (ہ س)۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی فورسز نے امریکی بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو امریکا ایران کے تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔پیٹ ہیگسیتھ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے 5 ستمبر کو تین ایرانی خام تیل بردار ٹینکروں پر فضائی حملے کیے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے علاقائی سمندری حدود میں گشت کرنے والے دو امریکی جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی۔
امریکی وزیر جنگ نے دعویٰ کیا کہ ایران کا آئل ٹینکر بیڑا امریکی کارروائی کے مقابلے میں غیر محفوظ ہے اور تہران کے پاس اپنے تجارتی و تیل بردار بحری بیڑے کے مؤثر دفاع کے لیے مناسب بحری یا فضائی صلاحیت موجود نہیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے خلیج اور بحیرہ عمان میں ایران کے تین تیل بردار جہازوں کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان تین ٹینکروں میں سے ایک خالی تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر متعدد حملوں سے محفوظ رہے۔ سینٹ کام نے کہا کہ ان کارروائیوں میں کسی امریکی فوجی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔سینٹ کام نے مزید بتایا کہ ایرانی حملوں کے بعد امریکی افواج نے پاسداران انقلاب سے منسلک دو تیل بردار ٹینکروں کو مستقل طور پر ناکارہ بنا دیا۔ ان میں جزیرہ? خارگ کے قریب موجود ’’ڈاؤنی‘‘ اور جاسک کے نزدیک موجود ’’سٹارک 1‘‘ شامل ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق بحیرہ عمان میں موجود ایک اور تیل بردار جہاز ’’کلو‘‘، جسے ’’نوکسن‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کو بھی اس کے کئی اہم اور حساس حصوں پر حملوں کے بعد تباہ کر دیا گیا۔ امریکی بیان کے مطابق جہاز کے عملے کو اسے خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے بعد جہاز مکمل طور پر ناکارہ ہوگیا۔سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایران کے لیے سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاسداران انقلاب نے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا تو امریکا اس کا جواب زیادہ بڑے معاشی نقصان کی صورت میں دے گا۔ان کے مطابق اگر ایران نے دو امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا تو امریکا ایران کے تین تیل بردار جہازوں کو تباہ کرکے تہران پر کہیں زیادہ بڑا معاشی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کے دفاع میں واشنگٹن کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور ضرورت پڑنے پر ایران کے محدود تیل بردار بیڑے کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ تینوں ایرانی ٹینکرز اربوں ڈالر مالیت کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھے، جس کے ذریعے ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو مالی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔امریکا اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب واشنگٹن تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے، سخت پابندیوں اور ایران کے ساتھ کاروباری لین دین کرنے والے ممالک پر ثانوی پابندیوں سمیت مختلف اقدامات کر رہا ہے۔
فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایران نے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر رکھا ہے۔ اس کے جواب میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے گرد محاصرہ قائم کر دیا ہے۔ایک ماہ تک نسبتاً خاموش رہنے کے بعد حالیہ دنوں میں دونوں فریقوں کے درمیان دوبارہ حملوں کا تبادلہ شروع ہونے سے عسکری کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سفارتی حل کی کوششیں بھی تاحال تعطل کا شکار ہیں، جبکہ خطے میں کسی نئی فوجی کارروائی کے خدشات برقرار ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan