
کٹھمنڈو، 6 ستمبر (ہ س)۔ ملک میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد نیپال حکومت نے پہلی بار موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے اقوام متحدہ کے ’لاس اینڈ ڈیمیج‘ فنڈ سے ہنگامی مالی امداد طلب کی ہے۔ تاہم، نیپال کو کتنی رقم ملے گی اور یہ امداد کب تک فراہم ہوگی، اس کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔
حکام کے مطابق، فنڈ کی ’فوری فراہمی‘ سہولت کے تحت طلب کی گئی امداد کی رقم نیپال کی جانب سے پیش کیے جانے والے نقصانات کے شواہد و تفصیلات اور فنڈ کی بورڈ میٹنگ میں کیے جانے والے فیصلے کی بنیاد پر طے ہوگی۔ 26 اگست کو گلیشیئر جھیل پھٹنے کے بعد لہیندے کھولا کے راستے بھوٹے کوشی-ترشولی ندی میں آنے والے اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو زبردست نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد نیپال نے فوری راحت اور بحالی کے لیے اس فنڈ سے امداد کی درخواست کی ہے۔
وزیر خزانہ ڈاکٹر سورنم واگلے اور وزیر زراعت، جنگلات و ماحولیات گیتا چودھری نے مشترکہ طور پر فنڈ کے شریک صدور کو مکتوب ارسال کر کے سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے فوری نمٹنے کے لیے ہنگامی مالی امداد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک فنڈ کی جانب سے اس خط کا کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
وزارتِ زراعت، جنگلات و ماحولیات کے ماتحت کلائمیٹ چینج مینجمنٹ ڈویژن کی ڈپٹی سکریٹری دیپا اولی نے کہا کہ نیپال نے کسی مخصوص رقم کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے رقم طے کر کے نہیں مانگی ہے۔ اگرچہ کاربن کے اخراج میں نیپال کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس کے باوجود ہمیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بھوٹے کوشی میں آنے والے گلیشیائی سیلاب سے ہمیں نقصان پہنچا ہے۔ ہمیں ہنگامی امداد کی ضرورت ہے، اسی مقصد کے تحت مراسلت کی گئی ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اس طرح ہنگامی امداد کا مطالبہ کیا جانا خود اس فنڈ کے لیے بھی ایک نیا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق، ہنگامی امداد طلب کرنے والا نیپال پہلا ملک ہے۔ نیپال کو امید ہے کہ اس فنڈ سے تقریباً 3000 کروڑ نیپالی روپے تک کی امداد حاصل ہو سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن