
جماعت کے نائب امیر ملک معتصم خان نے اسے جمہوریت پر بدنما داغ قرار دیانئی دہلی،06ستمبر(ہ س)۔
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع تاریخی مسجد کے انہدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ قرار دیا ہے۔ ملک معتصم خان نے ملک میں مذہبی آزادی اور جائیداد کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں ملک معتصم خان نے کہا کہ ہم سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع تاریخی مسجد کی مسماری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ چاپلوسی اور سیاسی غلامی کا ایک بدترین مظاہرہ تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ سہارنپور کے افسران نے دنیا کے سامنے اپنی متعصبانہ اور فرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرکے آخر کیا حاصل کیا ؟ یہ پورا واقعہ ملک کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہے اور اقلیتی حقوق کے تعلق سے ملک کی قیادت کے رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔ سہارنپور مسجد کی مسماری نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اگر اکثریتی سیاست کو ملک کے آئین کو کمزور کرنے اور قانون کو حکومت کا غلام بنانے کی اجازت دے دی جائے تو وہ کس حد تک جا سکتی ہے۔ملک معتصم خان نے مزید کہا کہ مسجد کی مسماری اس بات پر بھی سنگین سوالات اٹھاتی ہے کہ کیا اس طرح کی کارروائیوں کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے وضع کردہ گائڈ لائن کی پابندی کی گئی ہے یا نہیں۔ اگر کسی مذہبی مقام کی حیثیت، جو کئی دہائیوں سے عوام کے مسلسل استعمال میں ہو، چند من مانی کرنے والے سیاسی رہنماؤں اور ان کے فرماں بردار افسران کے ذریعے طے کی جائے گی تو قانون حکمرانی پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ اس کے بعد وقف، ملکیت اور قبضے جیسے معاملات بھی بلڈوزر کے ذریعے طے کئے جائیں گے۔ اس طرح ہماری عدلیہ بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ کیا یہ واقعہ اعلیٰ عدالت کے لیے کافی نہیں ہے کہ وہ اس معاملے میں ازخود نوٹس لے کر مداخلت کرے؟ انہوں نے کہا کہ ہم انصاف پسند تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسے سنگین واقعات کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ جو عناصر ہماری آئینی جمہوریت کی بنیادوں کو ہلا دینے کی دھمکی دے رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ملک میں قانون کی حکمرانی کی جگہ اکثریتی غلبے کی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ملک معتصم خان نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اتر پردیش کی پوری انتظامیہ اپنی اعلیٰ سیاسی قیادت کے اشتعال انگیز اشاروں پر مسلم برادری کو ہر ممکن طریقے سے ہراساں کرنے منصوبے پرعمل پیرا ہے۔ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے نفرت کی سیاست کو فروغ دینے والے عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ معاشی ترقی، روزگار، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹا سکتے ہیں۔ تاہم اس ملک کے عوام فرقہ وارانہ سیاست کے اس فریب کو اب سمجھ چکے ہیں اور مسلمانوں پر ظلم اور ان کی عبادت گاہوں کو تباہ کرکے ماضی کی ’کھوئی ہوئی عظمت‘ کی بحالی کے اس دکھاوے کا شکار نہیں ہوں گے۔ملک معتصم خان نے کہا کہ اتر پردیش انتظامیہ کے اس غیر قانونی اقدامات کے باوجود یو پی کے مسلمان اپنے ایمان، مذہبی شناخت، ثقافت اور روایات سے اپنے تعلق کو کسی بھی صورت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ کسی بھی سرکاری اتھارٹی کو یہ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے کہ مسجد کو مسمار کرکے کسی مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے ۔ من مانی طاقت کے استعمال پر انصاف، قانون کی بالادستی اور آئینی حقوق کو ہر حال میں فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais