امریکا نے سعودی عرب کے لیے 5 ارب ڈالر کے دفاعی پیکیج کی منظوری دے دی
واشنگٹن، 05 ستمبر(ہ س)۔ امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً 5 ارب ڈالر مالیت کے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز ایکسٹینڈڈ رینج (JDAM-ER) اور متعلقہ دفاعی سازوسامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کے لیے تقریباً 750 ملین ڈالر مالیت
امریکا نے سعودی عرب کے لیے 5 ارب ڈالر کے دفاعی پیکیج کی منظوری دے دی


واشنگٹن، 05 ستمبر(ہ س)۔ امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً 5 ارب ڈالر مالیت کے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز ایکسٹینڈڈ رینج (JDAM-ER) اور متعلقہ دفاعی سازوسامان کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کے لیے تقریباً 750 ملین ڈالر مالیت کے AGT-1500 ٹینک انجنز کی ممکنہ فروخت کی بھی منظوری دی گئی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق JDAM-ER سے متعلق مجوزہ پیکیج کے لیے بوئنگ کو بنیادی ٹھیکیدار مقرر کیا گیا ہے، جبکہ AGT-1500 انجنز کے معاہدے میں ہنی ویل بنیادی ٹھیکیدار ہوگی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ دفاعی فروخت سے سعودی عرب کو موجودہ اور مستقبل کے سیکورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

تقریباً 5 ارب ڈالر کے JDAM-ER پیکیج میں 10 ہزار سے زائد گائیڈنس کٹس اور متعلقہ سازوسامان شامل ہیں۔ اس کے ساتھ مختلف وزن کے روایتی بم بھی فراہم کیے جانے کی تجویز ہے۔JDAM نظام روایتی بموں کو گائیڈڈ ہتھیاروں میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں جدید گائیڈنس ٹیکنالوجی شامل ہونے کے باعث بم کو زیادہ درستگی کے ساتھ ہدف تک پہنچانے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔ JDAM-ER ورژن میں اضافی رینج فراہم کرنے کے لیے وِنگ کٹ استعمال کی جاتی ہے، جس سے طیارہ نسبتاً زیادہ فاصلے سے زمینی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً 750 ملین ڈالر مالیت کے AGT-1500 انجنز فراہم کرنے کی ممکنہ ڈیل کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ انجن امریکی ساختہ M1 ابرامز ٹینکوں میں استعمال ہوتے ہیں۔اس مجوزہ معاہدے کے لیے ہنی ویل بنیادی ٹھیکیدار ہوگی۔ سعودی عرب پہلے ہی ان انجنز کی دیکھ بھال، مرمت اور اوورہال کی مقامی صلاحیت بڑھانے کے لیے ہنی ویل کے ساتھ تعاون کرچکا ہے۔اس تعاون کا مقصد سعودی عرب کی دفاعی صنعت میں مقامی پیداواری اور تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور فوجی سازوسامان کی دیکھ بھال کے لیے مقامی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے۔امریکا نے سعودی عرب کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی دفاعی پیکیجز کی منظوری دی ہے۔عمان کے لیے تقریباً 188 ملین ڈالر مالیت کی F-16 لڑاکا طیاروں سے متعلق خدمات اور معاونت کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی گئی ہے۔ اس پیکیج میں طیاروں کی آپریشنل صلاحیت برقرار رکھنے اور متعلقہ تکنیکی معاونت فراہم کرنے سے متعلق خدمات شامل ہیں۔اسی طرح عراق کے لیے تقریباً 150 ملین ڈالر مالیت کے Bell 412EPX ہیلی کاپٹروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی گئی ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کے لیے Bell Textron بنیادی ٹھیکیدار ہوگی۔

سعودی عرب کے لیے اتنے بڑے دفاعی پیکیج کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے دفاعی تعاون جاری ہے، جبکہ ریاض اپنی مسلح افواج کی جدید کاری اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافے پر بھی توجہ دے رہا ہے۔

JDAM-ER جیسے گائیڈڈ ہتھیار سعودی فضائیہ کی زمینی اہداف کے خلاف درست حملے کی صلاحیت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ دوسری جانب AGT-1500 انجنز کی فراہمی سے سعودی عرب کے پاس موجود ابرامز ٹینکوں کی آپریشنل صلاحیت برقرار رکھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ممکنہ دفاعی فروخت کی منظوری کو حتمی فروخت یا مکمل معاہدہ نہیں سمجھا جاتا۔ یہ امریکی حکومت کی جانب سے مجوزہ دفاعی سودے کی منظوری اور امریکی کانگریس کو اس سے متعلق باضابطہ اطلاع دینے کا مرحلہ ہے۔حتمی معاہدہ طے ہونے سے قبل ہتھیاروں کی تعداد، قیمت اور دیگر شرائط میں تبدیلی ممکن ہے۔ اسی طرح کانگریس کے پاس بھی ایسے دفاعی سودوں کے حوالے سے مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت کارروائی کا اختیار ہوتا ہے۔سعودی عرب، عمان اور عراق کے لیے ان مجوزہ دفاعی سودوں سے خطے میں امریکا کے جاری دفاعی تعاون اور اتحادی ممالک کی فوجی صلاحیتوں کو جدید بنانے کی پالیسی نمایاں ہوتی ہے۔ سعودی عرب کے لیے JDAM-ER اور AGT-1500 انجنز کے پیکیجز ان مجوزہ سودوں میں سب سے زیادہ مالیت رکھتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande