
بھاگلپور، 5 ستمبر (ہ س)۔
گنگا ندی کی سطح آب میں مسلسل تیزی سے اضافے کے باعث سیلاب کا پانی نہ صرف ساحلی علاقوں بلکہ نئے علاقوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ گوراڈیہہ بلاک کے شمالی علاقے کے بہیار (کھیت اور کھلیان) اور نشیبی رہائشی علاقوں میں بھی سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ہے۔
سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور مکئی کی فصلیں مکمل طور پر ڈوب چکی ہیں، جس سے کسانوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ بلاک کے مکندپور، گڑہوتیا، قاسم پور، مملکھا اور رجندیپ سے متصل گوراڈیہہ سرحدی گاؤں کے بہیار کا بیشتر حصہ پانی میں ڈوب کر جھیل میں تبدیل ہوگیا ہے۔
پانی اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ اب آہستہ آہستہ ہودھ پور، مرار پور اور شید پور جیسے گاؤں کے رہائشی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کئی اہم اور رابطہ سڑکوں پر پانی جمع ہوجانے کے باعث ان گاؤں کا بلاک ہیڈکوارٹر سے براہ راست رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔کھیتوں میں پانی بھر جانے سے کسانوں کے سامنے بھی بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ مویشی پالنے والے اپنے جانوروں کو محفوظ رکھنے کے لیے اونچی اور نسبتاً محفوظ جگہوں کی تلاش میں ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر گنگا کی سطح آب میں اسی طرح اضافہ جاری رہا تو پانی کا گھروں میں داخل ہونا یقینی ہے۔ ممکنہ سیلاب کے پیش نظر نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے ضروری سامان محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور اونچے مقامات و پشتوں پر پناہ لینے کی تیاری شروع کردی ہے۔
مقامی عوامی نمائندوں اور گاؤں والوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں کا فوری طور پر فضائی یا زمینی سروے کرایا جائے اور امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ گاؤں میں آمدورفت کے لیے سرکاری کشتیاں فوری طور پر چلائی جائیں اور مویشیوں کے لیے مناسب مقدار میں چارے کا انتظام کیا جائے۔فی الحال مقامی لوگ خوف اور تشویش کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہوں نے انتظامیہ سے سیلاب کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے، چوکسی بڑھانے اور ہنگامی اقدامات کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی ہے۔
ہندوستھان سماچار /افصل
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan