
نئی دہلی، 05 ستمبر (ہ س)۔ گجرات کے کچھ میں واقع دین دیال پورٹ اتھارٹی (ڈی پی اے)، کانڈلا نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ڈی پی اے نے شپ ٹو شپ ٹرانس شپمنٹ کے شعبے میں 12.7 ملین ٹن کارگو ہینڈل کرکے اب تک کی سب سے زیادہ سطح حاصل کی ہے۔
دین دیال پورٹ اتھارٹی نے ہفتہ کو جاری ایک بیان میں بتایا کہ یہ کامیابی یکم ستمبر 2026 تک کی کارروائیوں کے دوران حاصل ہوئی، جو بندرگاہ کے شپ ٹو شپ آپریشنز کی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا اعداد و شمار ہے۔ یہ اس کی آپریشنل کارکردگی میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔
ڈی پی اے کانڈلا نے ایکس پر جاری پوسٹ میں اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی بحری صلاحیت، مؤثر آپریشنز اور ملک کے لاجسٹکس نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بندرگاہ پر مبنی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں اس کے اہم کردار کی عکاسی کرتی ہے۔یہ کامیابی کانڈلا بندرگاہ کی اعلیٰ آپریشنل کارکردگی، جدید بحری بنیادی ڈھانچے اور تجارتی شعبے کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
شپ ٹو شپ (ایس ٹی ایس) ٹرانس شپمنٹ کے عمل کے تحت کھلے سمندر میں بڑے جہازوں، جنہیں مادر ویسلز کہا جاتا ہے، سے چھوٹے جہازوں، یعنی ڈاٹر ویسلز، میں کارگو براہ راست منتقل کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے سامان کی نقل و حمل میں وقت اور لاگت کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ڈی پی اے کاندلا پورٹ نے اب تک 70.03 ملین میٹرک ٹن (ایم ایم ٹی) کارگو ہینڈل کیا ہے اور اس کامیابی تک پہنچنے والا بھارت کا سب سے تیز رفتار بڑا بندرگاہ بن گیا ہے۔ یہ ریکارڈ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 32 دن پہلے حاصل کیا گیا۔ اس دوران سالانہ بنیاد پر کارگو ہینڈلنگ میں 23.02 فیصد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔
اس سے قبل 27 جولائی کو ڈی پی اے کانڈلا نے ایک دن میں سب سے زیادہ 7,83,816 میٹرک ٹن کارگو ہینڈل کرکے ایک اور ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اس دوران اس نے 17 جون کو قائم کیے گئے اپنے سابقہ ریکارڈ 7,78,570 میٹرک ٹن کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔دین دیال پورٹ اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت میں مسلسل توسیع، ڈیجیٹلائزیشن اور محفوظ بحری طریقہ کار کے نفاذ کی وجہ سے یہ نیا ریکارڈ قائم کرنا ممکن ہوا۔
حکام کے مطابق مالی سال 2026-27 کے بقیہ مہینوں میں ٹرانس شپمنٹ کے اعداد و شمار میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ اس سے میری ٹائم انڈیا ویژن اور بندرگاہ پر مبنی اقتصادی ترقی کو مزید تقویت ملے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan