انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی کانگریس سے مطالبہ، اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون محدود کیا جائے
واشنگٹن، 4 ستمبر (ہ س)۔ امریکہ میں درجنوں انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور وکالتی تنظیموں نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امریکی فوجی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے والی شق کو 2027 کے قومی دفاعی اجازت نامے کے بل سے حذف کیا جائے۔ خبر
امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی سے ایران کی معیشت پر دباؤمیں اضافہ، تیل برآمدات میں نمایاں کمی


واشنگٹن، 4 ستمبر (ہ س)۔ امریکہ میں درجنوں انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور وکالتی تنظیموں نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امریکی فوجی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے والی شق کو 2027 کے قومی دفاعی اجازت نامے کے بل سے حذف کیا جائے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کو موصول ہونے والے ایک خط کے مطابق 56 تنظیموں نے امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی مسلح خدمات سے متعلق کمیٹیوں کے سربراہان پر زور دیا ہے کہ وہ دفاعی بل میں شامل سیکشن 219 کو ختم کریں۔ تنظیموں کا مؤقف ہے کہ اس شق کے ذریعے امریکی اور اسرائیلی دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو موجودہ حالات میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

2027 کے قومی دفاعی اجازت نامے کے قانون میں شامل سیکشن 219 کا مقصد امریکہ میں اسرائیلی دفاعی صنعت کے ساتھ مشترکہ منصوبوں، لائسنسنگ معاہدوں اور مشترکہ پیداوار کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار تیار کرنا ہے۔تنظیموں نے اپنے خط میں کہا ہے کہ اسرائیلی دفاعی شعبے کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ایسے وقت میں مناسب نہیں جب غزہ کی جنگ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے امریکہ کے اندر بھی شدید بحث جاری ہے۔خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکی مفادات اور عوامی رائے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت سے بتدریج دور ہو رہی ہے، اس لیے امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کے نظام میں اسرائیل کے لیے مزید رسائی کے راستے کھولنا خطرناک ہو سکتا ہے۔خط پر دستخط کرنے والی تنظیموں میں ایمنسٹی انٹرنیشنل یو ایس اے، نیشنل لائرز گلڈ اور متعدد عرب و یہودی حقوق کی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان جولائی میں قومی دفاعی اجازت نامے کا بل منظور کر چکا ہے، تاہم اب یہ سینیٹ میں ووٹنگ کے مرحلے میں ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں چاہتی ہیں کہ سینیٹ میں غور کے دوران مذکورہ شق کو بل سے نکال دیا جائے۔

دوسری جانب اس شق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافے سے فوجی ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے شعبوں میں دونوں ممالک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور مشترکہ دفاعی منصوبوں کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔اسرائیل واشنگٹن کے مشرق وسطیٰ میں اہم ترین اتحادیوں میں شمار ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کئی دہائیوں سے دفاع، انٹیلی جنس اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں قریبی تعاون کرتے آ رہے ہیں۔واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے رواں سال مئی میں سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں اسرائیل آئندہ ایک دہائی کے اندر امریکی فوجی امداد پر اپنا انحصار ختم کر دے گا۔انہوں نے جون میں امریکی کانگریس کے ایک رکن کو بھیجے گئے خط میں بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل محض امریکی امداد حاصل کرنے والے ملک کے بجائے امریکہ کا برابر کا شراکت دار بنے۔اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل کے لیے امریکی عوام کی حمایت میں کمی کا رجحان سامنے آیا ہے، بالخصوص ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں میں اسرائیل کی پالیسیوں کے حوالے سے تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔

کوئنی پیاک یونیورسٹی کے جون میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 48 فیصد امریکی ووٹرز اور 66 فیصد ڈیموکریٹک ووٹرز کا خیال تھا کہ امریکہ اسرائیل کی ضرورت سے زیادہ حمایت کر رہا ہے۔ 2017 میں جب یہی سوال پہلی بار پوچھا گیا تھا تو یہ شرح بالترتیب 16 اور 20 فیصد تھی۔اس تبدیلی کے باعث ڈیموکریٹک پارٹی میں اسرائیل کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے والے امیدواروں اور قانون سازوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بعض معتدل مزاج قانون ساز بھی امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو کئی دہائیوں سے فراہم کی جانے والی مسلسل حمایت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنے خط میں غزہ جنگ کے دوران بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خط میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے مبینہ بڑھتے ہوئے تشدد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں اسرائیل کے ساتھ امریکی فوجی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی تجاویز پر بھی سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے اور کانگریس کو مذکورہ شق کو مسترد کرنا چاہیے۔اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے درمیان موجود معاہدے کے تحت واشنگٹن اسرائیل کو ہر سال تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔ یہ معاہدہ 2028 میں ختم ہونے والا ہے۔

اسی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ 2028 کے بعد اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کس شکل میں جاری رکھی جائے گی۔موجودہ صورتحال میں دفاعی تعاون سے متعلق کانگریس میں ہونے والی بحث اس بات کی اہم علامت سمجھی جا رہی ہے کہ غزہ جنگ کے بعد امریکہ میں اسرائیل کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات اور فوجی امداد کے مستقبل پر سیاسی و عوامی اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande