امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی سے ایران کی معیشت پر دباؤمیں اضافہ، تیل برآمدات میں نمایاں کمی
تہران، 4 ستمبر (ہ س)۔ ایران پر امریکی معاشی دباؤ کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل کی برآمدات محدود کرنے، مالیاتی راستے بند کرنے اور پابندیوں سے بچنے کے ذرائع کو مہنگا بنانے کی امریکی حکمت عملی نے ایرانی معیشت کے لیے مشکلات میں اضافہ کر د
امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی سے ایران کی معیشت پر دباؤمیں اضافہ، تیل برآمدات میں نمایاں کمی


تہران، 4 ستمبر (ہ س)۔

ایران پر امریکی معاشی دباؤ کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل کی برآمدات محدود کرنے، مالیاتی راستے بند کرنے اور پابندیوں سے بچنے کے ذرائع کو مہنگا بنانے کی امریکی حکمت عملی نے ایرانی معیشت کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ تین سینئر ایرانی ذرائع کے مطابق تہران کے لیے غیر ملکی کرنسی حاصل کرنا اور ضروری اشیا و خام مال کی خریداری پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران پر معاشی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ امریکی حکمت عملی کا مقصد تہران کو مستقبل میں ہونے والے مذاکرات میں رعایتیں دینے پر مجبور کرنا ہے۔ تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے دباؤ کے جواب میں مزید عسکری کارروائی کا راستہ بھی اختیار کر سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے مختلف مالیاتی اور تجارتی راستے استعمال کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ امریکی اقدامات کے بعد ان راستوں پر بھی شدید دباؤ پڑا ہے۔ غیر ملکی مالیاتی نیٹ ورکس تک رسائی محدود ہونے سے ایران کے لیے عالمی تجارت جاری رکھنا مزید مشکل ہو رہا ہے۔

امریکی دباؤ کا سب سے بڑا اثر ایران کے تیل کے شعبے پر پڑا ہے۔ ’کیپلر‘ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ ایرانی خام تیل کی برآمدات کم ہو کر تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی ہیں، جبکہ ایک سال قبل یہ مقدار تقریباً 17 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔ایرانی بندرگاہوں سے اب محدود مقدار میں تیل باہر جا رہا ہے، جسے ٹرکوں، ٹرینوں یا بحیرہ کیسپین کے راستے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ ناکہ بندی کے علاقے سے باہر ٹینکروں میں دسیوں ملین بیرل تیل ذخیرہ موجود ہے، جسے مستقبل میں فروخت کیا جا سکتا ہے۔ تاہم امریکی پابندیوں کے باعث اس تیل کی فروخت میں شامل درمیانی افراد کے لیے خطرات اور اخراجات بڑھ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایران کو پابندیوں سے بچنے کے لیے فرضی کمپنیوں، غیر رجسٹرڈ آئل ٹینکروں اور اسمگلنگ جیسے طریقوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، لیکن اب ان ذرائع کو استعمال کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگا ہو گیا ہے۔ایرانی ذرائع میں سے ایک کے مطابق ملک میں موجود پٹرول کے ذخائر تقریباً دو ماہ کے لیے کافی رہ گئے ہیں۔ ایران خام تیل کی پیداوار کے باوجود محدود ریفائننگ صلاحیت کے باعث پٹرول کی درآمد پر بھی انحصار کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق تیل کی آمدنی میں کمی اور ایندھن کی فراہمی میں مشکلات ایرانی حکومت کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج بن سکتی ہیں۔ ایران پہلے ہی کمزور کرنسی، بلند افراطِ زر اور طویل عرصے سے جاری اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا تھا، جبکہ حالیہ فوجی تصادم اور بمباری نے معیشت پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔معاشی بحران کے دوران ایرانی ریال کی قدر میں بھی شدید گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ایک سال قبل ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 10 لاکھ ریال تھی، جو اب بڑھ کر 22 لاکھ ریال سے زیادہ ہو چکی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی ملک کی معاشی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجموعی تجارتی حجم میں تقریباً 25 سے 35 فیصد کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق درآمدات پر اس کا اثر برآمدات کے مقابلے میں زیادہ پڑا ہے۔ایرانی حکام کو خدشہ ہے کہ معاشی حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں عوامی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایران میں گزشتہ جنوری میں بھی بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، جنہیں حکام نے سخت کارروائی کے ذریعے ختم کیا تھا۔ایران میں بڑھتی مہنگائی نے عام شہریوں کی مشکلات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران اوسط افراط زر 69.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ خوراک، مشروبات اور تمباکو کی قیمتوں میں اضافہ مجموعی افراط زر سے تقریباً دوگنا رہا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande