
نئی دہلی، 4 ستمبر (ہ س)۔ امریکہ کے دورے پر گئی مرکزی وزیر خزانہ و کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے نیویارک میں عالمی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ اس دوران انہوں نے بھارت کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مالیاتی خدمات اور گفٹ سٹی میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کی تیزی سے بڑھتی معیشت میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانا چاہتی ہے۔
سیتارمن نے بی این وائی میلن کے گروپ سی او او الیجاندرو پیریز سے ملاقات میں عالمی مالیاتی اداروں کے لیے بھارت کے بڑھتے مالیاتی نظام، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز (جی سی سی) اور گفٹ سٹی-آئی ایف ایس سی میں موجود مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں بھارت کی 7.8 فیصد حقیقی جی ڈی پی شرح نمو، مضبوط داخلی طلب، گہرے ہوتے مالیاتی بازار اور اصلاحات پر مبنی پالیسی ماحول کو سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے والے اہم عوامل قرار دیا۔پیریز نے بھارت کے تئیں بی این وائی میلن کی طویل مدتی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت صرف ڈلیوری سینٹر ہی نہیں بلکہ جدت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسی جدید صلاحیتوں کے لیے ایک اہم عالمی مرکز کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔ سیتارمن نے انہیں گفٹ سٹی-آئی ایف ایس سی کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔
مرکزی وزیر نے ٹل مین ہولڈنگز کے چیئرمین اور سی ای او سنجیو آہوجا سے بھی ملاقات کی۔ اس دوران مضبوط اور پائیدار ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کیمپس تیار کرنے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ سیتارمن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل خدمات اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی میں تیزی سے اضافے کے باعث ڈیٹا سینٹرز، ہائی کیپیسٹی نیٹ ورک اور قابل اعتماد بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی طلب بڑھ رہی ہے۔ایک اور ملاقات میں سیتارمن نے مارش میک لینن کے صدر اور سی ای او ڈین کلیسورا اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ بھارت میں سرمایہ کاری اور توسیع کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan