
جموں، 04 ستمبر (ہ س)۔
جموں و کشمیر رہبرِ تعلیم اساتذہ فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 2019 سے قبل تعینات کیے گئے اساتذہ کے لیے لازمی تدریسی اہلیت امتحان (ٹی ای ٹی) کی شرط ختم کرنے کا معاملہ آئندہ قانون ساز اسمبلی اجلاس میں اٹھایا جائے۔
فورم نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے نام ایک یادداشت میں حکومت سے اپیل کی ہے کہ اسمبلی میں قرارداد منظور کرکے 2019 سے قبل مقرر کیے گئے اساتذہ کو لازمی ٹی ای ٹی کی شرط سے مستثنیٰ قرار دینے کی سفارش کی جائے۔
فورم کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں ایسے اساتذہ اس معاملے سے متاثر ہو رہے ہیں، جنہیں اُس وقت نافذ ضوابط کے تحت باقاعدہ طور پر تعینات کیا گیا تھا اور جو محکمہ تعلیم میں کئی برسوں سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
فورم کے مطابق ان اساتذہ کی تقرری کے وقت حقِ تعلیم قانون اور ٹی ای ٹی کی لازمی شرط جموں و کشمیر میں دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرح نافذ نہیں تھی۔ فورم نے کہا کہ 2019 میں آئینی تبدیلیوں کے بعد حقِ تعلیم قانون کا اطلاق جموں و کشمیر میں کیا گیا۔
رہبرِ تعلیم اساتذہ فورم نے مؤقف اختیار کیا کہ 2019 سے قبل تعینات اساتذہ پر ٹی ای ٹی کی شرط ماضی سے لاگو کرنا ناانصافی ہوگی اور اس سے اُن اساتذہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، جنہوں نے اُس وقت کے قواعد کے مطابق ملازمت حاصل کی تھی۔
فورم نے کہا کہ متاثرہ اساتذہ کئی برسوں کا تدریسی تجربہ رکھتے ہیں اور بالخصوص دیہی و دور دراز علاقوں میں ہزاروں بچوں کو تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔
فورم نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ ضرورت پڑنے پر یہ معاملہ حکومتِ ہند اور قومی کونسل برائے اساتذہ تعلیم کے ساتھ بھی اٹھایا جائے تاکہ ایک مرتبہ کے لیے ٹی ای ٹی سے استثنیٰ یا اس معاملے پر واضح ہدایات حاصل کی جاسکیں۔
فورم نے حکومت سے یہ بھی اپیل کی کہ 2019 سے قبل تعینات اساتذہ کے خلاف صرف ٹی ای ٹی کی عدم دستیابی کی بنیاد پر کوئی تادیبی یا منفی کارروائی نہ کی جائے۔
تین ستمبر کو پیش کی گئی یادداشت میں فورم نے وزیر اعلیٰ سے معاملے پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی اساتذہ برادری کے وسیع تر مفاد میں اسمبلی میں مناسب قرارداد کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر