رونیت بٹو کی نشے سے متعلق ویڈیو پر تنازعہ، پنجاب پولیس نے فرضی بتایا
چنڈی گڑھ، 4 ستمبر (ہ س)۔پنجاب میں منشیات کے مدعے پر ایک بار پھر سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر روونیت سنگھ بٹو کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو کے بارے میں پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ویڈیو میں نظر آ
Ravneet-Bittu-Video-Controversy


چنڈی گڑھ، 4 ستمبر (ہ س)۔پنجاب میں منشیات کے مدعے پر ایک بار پھر سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر روونیت سنگھ بٹو کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو کے بارے میں پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والا نوجوان اس وقت نشے میں نہیں تھا اور اس نے سوشل میڈیا پرتوجہ حاصل کرنے کے لیے ویڈیو بنائی تھی۔

بٹو نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو نشانہ بنایا اور ریاست میں منشیات کی صورتحال پر سوالات اٹھائے۔ یہ ویڈیو گزشتہ 48 گھنٹوں سے بٹو کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر وائرس ہو رہا تھا۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر لدھیانہ کے دوگری علاقے میں ایک سکھ نوجوان کو نشے کی حالت میں دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے نوجوان کی شناخت کرکے اسے ماڈل ٹاؤن کے علاقے سے ٹریس کیا۔ اسسٹنٹ پولیس کمشنر ایس ایس چیمہ نے بتایا کہ نوجوان کی عمر تقریباً 30 سال ہے اور وہ پہلے نشے کا عادی تھا لیکن اس نے کافی عرصہ قبل چٹا لینا ترک کر دیا تھا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران نوجوان نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کرنے کے لیے یہ ویڈیو بنائی تھی۔ پولیس افسر کے مطابق نوجوان اس سے قبل سوشل میڈیا کے لیے ویڈیوز بنا تا رہا ہے۔ تاہم پولیس نے ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا ہے۔ نوجوان کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ویڈیو ریکارڈنگ کے وقت وہ کسی نشہ آور چیز کے زیر اثر تو نہیں تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ ایسی غیر تصدیق شدہ ویڈیوز ریاست میں منشیات کی صورتحال کی گمراہ کن تصویر پیش کر سکتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر 2027 کے پنجاب اسمبلی کے انتخابات سے پہلے اس طرح کے مواد کو شیئر کرنے سے احتیاط برتنے کی تاکید کی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بٹو کی جانب سے شیئر کی گئی منشیات سے متعلق ویڈیو کی صداقت پر سوالیہ نشان لگایا گیا ہو۔ اس سے پہلے پولیس نے لدھیانہ کے ایک نوجوان کی ویڈیو کو پرانا قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande