پاکستان کے بلوچستان میں تعمیراتی کمپنی کی 14 گاڑیوں کو دھماکے سے تباہ کیا گیا
اسلام آباد، 04 ستمبر (ہ س)۔ پاکستان کے بلوچستان میں مسلح افراد نے ایک تعمیراتی کمپنی کی 14 گاڑیوں کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس واقعے کی تاحال کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ان گاڑیوں میں آٹھ ڈمپر، دو لوڈر، ایک ایکسکیویٹر، ایک ٹریلر، ایک بٹو
علامتی تصویر


اسلام آباد، 04 ستمبر (ہ س)۔

پاکستان کے بلوچستان میں مسلح افراد نے ایک تعمیراتی کمپنی کی 14 گاڑیوں کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس واقعے کی تاحال کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ان گاڑیوں میں آٹھ ڈمپر، دو لوڈر، ایک ایکسکیویٹر، ایک ٹریلر، ایک بٹومین ڈسٹری بیوٹر اور ایک واٹر باوزر شامل ہیں۔ یہ وہی مقام ہے جہاں مسلح افراد نے پاکستانی فوج اور ڈپٹی کمشنر کے قافلے پر حملہ کیا تھا۔

دی بلوچستان پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، ابھی تک کسی بھی تنظیم نے کنسٹرکشن کمپنی کی گاڑیوں پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ البتہ بلوچ لبریشن آرمی نے زیارت کراس پر پاکستانی فوج پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں فوج کے 18 اہلکار ہلاک ہوئے۔ بلوچستان لبریشن آرمی کے سرکاری چینل ’ہکل‘ نے آج زیارت کراس حملے کی ایک منٹ 11 سیکنڈ کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

اس کے علاوہ آل پارٹیز کیچ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ چار دنوں سے تربت میں چند نامعلوم یوٹیوبرز کی موجودگی اور مختلف تنظیموں کے دوروں کے سبب تمام سڑکیں بند ہیں۔ ان یوٹیوبرز کے تربت پریس کلب کے دورے کے دوران صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ ٹیچنگ اسپتال کے دورے کے دوران یوٹیوبرز کے سیکورٹی عملے نے ڈاکٹروں کی تذلیل کی اور پیرامیڈیکل عملے پر تشدد کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں بالخصوص اسلام آباد اور لاہور سے لائے گئے یوٹیوبرز کی سیکورٹی کے لیے بلوچستان کے شہر تربت میں سیکورٹی ہائی الرٹ پر رکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے شہریوں کو اپنے روزمرہ کے کام کاج میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande