
نئی دہلی، 3 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نےکہا ہے کہ ووٹر فہرستوں کے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر ) کے دوران سیاسی جماعتوں کی طرف سے مقرر کردہ بوتھ لیول ایجنٹس (بی ایل اے ) کو صرف اسی معلومات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے جس کی وہ تصدیق کر سکتے ہیں۔بی ایل اے کو ووٹراینیومریشن اور ڈکلریشن فارم میں موجود تمام معلومات کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جسٹس امت بنسل کی سربراہی والی بنچ نے ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ مشاہدہ کیا۔
ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ دہلی کانگریس لیڈروں کی طرف سے دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کیا۔ درخواست میں الیکشن کمیشن کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹوں کو ذاتی حلف نامے جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اینیومریشن فارم میں دی گئی تمام معلومات کی تصدیق کرتے ہیں۔ دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو اور دہلی کانگریس بوتھ منیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین راجیش گرگ کی طرف سے دائر درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دہلی میں خصوصی نظر ثانی کے نفاذ سے پہلے سیاسی جماعتوں کو 2002 کی ووٹر لسٹ کی پرنٹ شدہ اور سافٹ کاپیوں کے علاوہ فروزن فوٹو ووٹر فہرستیںدستیاب کرائی جائیں۔
عرضی میں الیکشن کمیشن کے 24 جون 2025 کے سیکشن 9(ڈی)(4) کو چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت بوتھ لیول کے ایجنٹوں کواینیومریشن فارم سے متعلق معلومات کو ذاتی طور پر تصدیق کرتے ہوئے حلف نامہ دینے کے لئے کہا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ووٹر لسٹ پر معلومات کی تصدیق کرنا بوتھ لیول آفیسرز، اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز اور الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز کا قانونی فرض ہے۔ ان ملازمین اور افسران کی ذمہ داری سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا حکم عوامی نمائندگی ایکٹ کی شقوں سے مطابقت نہیں ہے ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد