ہائی کورٹ نے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزام میں پانچ سال سے جیل میں بند دو ملزموں کو ضمانت دی
نئی دہلی، 3 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی اور جموں و کشمیر سمیت ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کرنے کے الزام میں دو افراد کو ضمانت دے دی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ دونوں ملزم تقریبا پانچ سال
ضممانت


نئی دہلی، 3 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی اور جموں و کشمیر سمیت ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کرنے کے الزام میں دو افراد کو ضمانت دے دی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ دونوں ملزم تقریبا پانچ سال سے جیل میں ہیں اور مقدمے کی سماعت جلد مکمل ہونے کا امکان نہیں ہے۔

ہائی کورٹ نے ملزم سوبیا عزیز اور کامران مشرف ریشی کو 2 لاکھ روپے کے ذاتی بانڈ اور اتنی ہی رقم کی دو ضمانتوں پر ضمانت دے دی۔ عدالت نے دونوں ملزموں کو عدالت کی اجازت کے بغیر ملک چھوڑنے سے روک دیا ہے۔ مزید برآں عدالت نے دونوں ملزموں کو تحقیقات میں تعاون کرنے اور ٹرائل کورٹ کی سماعت کی ہر تاریخ پر عدالت میں پیش رہنے کا حکم دیا۔ عدالت نے دونوں ملزموں کو کسی بھی ایسے وٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے سے بھی روک دیا جو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہو یا اس طرح کا مواد نشر کرے۔

پٹیالہ ہاو¿س کورٹ کی جانب سے ان کی ضمانت کی درخواستیں خارج ہونے کے بعد دونوں ملزموں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے 14 مئی کو سوبیا عزیز کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی تھی، جبکہ کامران مشرف ریشی کی ضمانت کی درخواست 17 مارچ کو خارج کر دی گئی تھی۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے 10 اکتوبر 2021 کو اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی تھی۔ این آئی اے نے ان ملزموں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی، 121 اے، 122 اور 123 اور یو اے پی اے کی دفعہ 18، 18 اے، 20، 38 اور 39 کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ این آئی اے نے 22 اکتوبر 2021 کو سوبیا عزیز اور 20 اکتوبر 2021 کو کامران کو گرفتار کیاتھا۔

این آئی اے کو مخصوص اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ لشکر طیبہ، جیش محمد، حزب المجاہدین جیسی کالعدم تنظیموں کے کارکن جموں و کشمیر میں سرگرم ہیں اور پاکستان میں مقیم ہینڈلرز کے کہنے پر کام کر رہے ہیں۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ سائبر اسپیس کے ذریعے جموں و کشمیر اور دہلی سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ وہ پاکستان میں ہینڈلرز اور اوور گراو¿نڈ ورکرز کے ساتھ کام کر رہے تھے تاکہ مقامی نوجوانوں کو بھرتی کیا جا سکے اور انہیں دہشت گردی کی سرگرمیوں اور ہتھیاروں اور گولہ بارود کو استعمال کرنے کی تربیت دی جا سکے۔

ہندوستان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande