صدر  ٹرمپ کی ایک ہی شرط، ایران کو امن معاہدہ چاہیے تو پہلے جوہری پروگرام ترک کرے: روبیو
نیویارک، 24 ستمبر (ہ س): امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو اسے ہر حال میں اپنا جوہری پروگرام ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ایک شرط کے ساتھ۔ و
صدر  ٹرمپ کی ایک ہی شرط، ایران کو امن معاہدہ چاہیے تو پہلے جوہری پروگرام ترک کرے: روبیو


نیویارک، 24 ستمبر (ہ س): امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو اسے ہر حال میں اپنا جوہری پروگرام ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ایک شرط کے ساتھ۔ وہ شرط یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش ترک کرنا ہوگی۔ اس کے بعد ہی معاہدہ ہوگا اور ایران دوبارہ ایک عظیم ملک بن سکتا ہے۔ انہوں نے 23 ستمبر کو نیویارک کے شاندار پیلس ہوٹل میں کھچا کھچ بھرے پریس کانفرنس میں صحافیوں کے ایران کے مسئلے کے علاوہ دیگر سوالات کے بھی خوشگوار ماحول میں جواب دیے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ نے سوال و جواب کے علاوہ پریس کانفرنس کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔

پریس کانفرنس میں پہنچتے ہی روبیو نے کہا، ’’ٹھیک ہے، آگے بڑھیے۔‘‘ ان سے پہلا سوال ایران کے بارے میں پوچھا گیا—کل ایرانیوں کے ساتھ امریکہ کی کیا مانگیں تھیں اور کیا معاہدے (ایم او یو) میں واپسی پر کوئی بات چیت ہوئی؟ یا امریکہ کے لیے شرائط تبدیل ہوگئی ہیں؟ وزیر خارجہ روبیو نے کہا، ’’دیکھیے، کل کی بات چیت اس عمل میں شامل بعض ثالثوں کے ساتھ ہوئی۔ میں اسے کسی ایک سمت میں بیان نہیں کرنا چاہتا۔ میرے خیال میں اس کی سمجھ بالکل واضح ہے۔ یاد رکھیے، یہاں سب سے اہم مسئلہ—جس پر صدر نے کل دنیا کے سامنے اپنی تقریر میں زور دیا—یہ ہے کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوسکتے۔ سب کچھ اسی بات سے جڑا ہوا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز ایک مسئلہ ہے۔ آبنائے کا جنوبی راستہ کھلا ہوا ہے۔ ہر روز وہاں سے زیادہ سے زیادہ بیرل تیل گزر رہا ہے۔ یہ راستہ امریکی فوج کی کوششوں کی وجہ سے کھلا ہے۔ امریکی فوج جہازوں کی حفاظت بھی کر رہی ہے اور اس نے بارودی سرنگیں (مائنز) بھی صاف کی ہیں۔ اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس دوران آبنائے ہرمز میں واحد ناکہ بندی وہ ہے جو ہم نے ایران پر عائد کی ہے، کیونکہ تہران مسلسل جہازوں پر حملے کر رہا ہے۔ آج صبح بھی اس نے ایسا ہی کیا۔ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔‘‘

روبیو نے کہا، ’’لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوسکتے۔ ہم ہر بات چیت میں یہ بات رکھتے ہیں۔ میں ان ملاقاتوں کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا، کیونکہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو وہ پریس کانفرنس میں نہیں ہوگا۔ اس میں کافی وقت لگے گا۔ اس عمل میں ثالث بھی شامل ہوں گے۔ صدر نے کہا ہے کہ وہ ایسا معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں جس سے ایران ایک عظیم اور خوشحال ملک بن سکے۔ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اپنی خواہش پر قائم رہتا ہے تو یہ اس کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ ایران دنیا میں دہشت گردی کو سب سے زیادہ فروغ دینے والا ملک ہے۔ صدر ٹرمپ کے پاس کئی آپشنز ہیں۔ فوجی آپشن بھی موجود ہے۔ اس کے بارے میں میں کوئی اندازہ نہیں لگاؤں گا۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ نے کیوبا کی آزادی کے سوال پر کہا، ’’ہاں، وہ آزاد ہوگا۔‘‘ اس پر کئی ضمنی سوالات بھی پوچھے گئے۔ روبیو نے کہا، ’’کیوبا کے انقلاب کے بارے میں—میں جواب دینا چاہتا ہوں۔ کیوبا کا انقلاب ناکام رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب کیا ہوگا۔ میرے خیال میں کیوبا کے پاس تبدیلی لانے کا موقع ہے۔ اس میں سیاسی اور اقتصادی آزادی دونوں شامل ہیں۔ ہم آگے ایسے اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں جن سے تبدیلی کا عمل شروع ہوسکے۔ یہ عمل آسان نہیں ہوگا۔ ہم نے دنیا بھر میں تاریخ میں ایسی تبدیلیاں ہوتے دیکھی ہیں۔ یہ راتوں رات نہیں ہوتیں۔ کوئی بھی 60 سال سے زیادہ عرصے سے جاری بدانتظامی، بدعنوانی اور نااہلی کو چھ ماہ میں درست نہیں کرسکتا۔‘‘

ان سے پوچھا گیا کہ کیا کیوبا میں وینزویلا جیسی کوئی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے؟ روبیو نے کہا، ’’امریکہ پہلے۔ اگر امریکہ کی قومی سلامتی کو کیوبا سے کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے تو صدر کے پاس اس سے نمٹنے کا اختیار اور ذمہ داری دونوں ہیں۔ میں اس سے آگے کوئی اندازہ نہیں لگاؤں گا۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ کیوبا اور اس کے رہنماؤں یا جو لوگ اس وقت حکومت چلا رہے ہیں، ان کے پاس اس ملک کو ہمیشہ کے لیے مثبت طور پر تبدیل کرنے کا عمل شروع کرنے کا موقع ہے۔ کیوبا کی حکومت میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ ہم کبھی کام نہیں کرسکتے، کیونکہ ان کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔‘‘

ایک صحافی نے سوال کیا—صدرٹرمپ نے کل کہا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے گا۔ ایرانیوں کی طرف سے آپ کو ایسے کیا اشارے ملے ہیں جن سے لگتا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے؟ روبیو نے کہا، ’’میرے خیال میں ایرانی ہمارے نظام کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پائے ہیں۔ میرے خیال میں ایرانیوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ نومبر میں ڈیموکریٹس جیت جائیں گے اور صدر ان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکیں گے۔ جب ملک کی قومی سلامتی کی بات آتی ہے، جب پابندیاں عائد کرنے یا فوجی طاقت کے استعمال کی بات آتی ہے تو صدر کے پاس غیر معمولی اختیارات ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں صدر نے کل یہ واضح کردیا تھا کہ ان کے لیے ایران کا مسئلہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔ ہر امریکی صدر اور سچ کہوں تو دنیا کے بیشتر ممالک اس بات سے متفق ہیں کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔‘‘

روبیو نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ’’جنگل کے قانون کی واپسی‘‘ سے متعلق سوال کو خوشگوار انداز میں ٹال دیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے صدر میکرون کی تقریر نہیں سنی۔ میرے خیال میں صدر نے بھی کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں بہت صلاحیت ہے، لیکن وہ اس معیار پر پورا نہیں اتر رہا۔ میرے خیال میں کئی رہنماؤں کی بھی یہی رائے ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اقوام متحدہ اپنے بنیادی مقصد سے بھٹک گیا ہے۔ ہاں، اسے اپنے درست کردار کی طرف واپس لانے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، وہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ہونے والی لڑائی، یا بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ کشیدگی، یا ڈی آر سی اور روانڈا میں جو کچھ ہورہا ہے، یا سوڈان میں جو کچھ ہورہا ہے، یا ایران کے ساتھ آبنائے میں جو کچھ ہورہا ہے، اس سے نمٹ سکتا ہے۔‘‘

اس پریس کانفرنس میں ایران کا مسئلہ ہی چھایا رہا۔ روبیو نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ آبنائے کھلا رہے۔ وہاں امن ہو۔ وہاں کوئی حملہ نہ ہو۔ اس بات پر بھی اتفاق رائے ہے کہ حوثی اور یمن میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اسی لیے اقتصادی پابندیوں کے علاوہ فضائی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

انہوں نے سربیا کے بدلتے ہوئے کردار کے بارے میں پوچھے گئے سوال کو ہنستے ہوئے ٹال دیا۔ روبیو نے روس اور یوکرین کی جنگ کے بارے میں بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم سب چاہتے ہیں کہ یہ جنگ ختم ہو۔ روس اور یوکرین کے بارے میں میں ایک بات کہوں گا، وہ یہ ہے کہ ’جنگ‘ میدان جنگ میں ختم نہیں ہونے والی۔ جنگ ختم ہوگی—بات چیت اور معاہدے کے ذریعے۔ صدر ٹرمپ بھی یہی چاہتے ہیں۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande