
نئی دہلی، 24 ستمبر (ہ س)۔ گجرات کی ٹرائل کورٹ کے غیر ضمانتی وارنٹ کے تحت حراست میں لیے جانے کے بعد صحافی روی نائر نے اڈانی ہتک عزت معاملے میں رہائی کی درخواست کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
نائر کو 17 ستمبر کو گجرات کی گاندھی نگر سیشن عدالت کے حکم کے بعد عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے ایسے وقت میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے جب گجرات ہائی کورٹ نے ایک روز قبل ہی ان کی فوری رہائی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے غیر ضمانتی وارنٹ کو چیلنج کرنے والی عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ ہائی کورٹ 30 ستمبر کو اس معاملے میں اپنا حکم سنا سکتا ہے۔
یہ پورا معاملہ نائر کی اس اپیل سے متعلق ہے جو انہوں نے فوجداری ہتک عزت کے معاملے میں اپنی سزا کے خلاف دائر کی ہے۔ فروری میں مجسٹریٹ کی عدالت نے انہیں اڈانی گروپ کی شکایت پر قصوروار قرار دیا تھا۔ اس کے بعد نائر نے سیشن عدالت میں فیصلے کو چیلنج کیا اور اپیل زیر التوا رہنے کے دوران انہیں ضمانت مل گئی تھی۔
تاہم، اپیلی عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہونے کو لے کر تنازعہ پیدا ہوگیا۔ 3 ستمبر کی سماعت میں نائر کی غیر حاضری کے بعد سیشن عدالت نے ان کی استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا۔ اس کے بعد 17 ستمبر کو نائر عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست کی، لیکن عدالت نے ان کی درخواست قبول نہیں کی اور انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا۔
سیشن عدالت کے حکم کے خلاف نائر نے گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ انہوں نے غیر ضمانتی وارنٹ اور اس کی بنیاد پر کی گئی حراست کو چیلنج کرتے ہوئے فوری رہائی کی درخواست کی۔ 23 ستمبر کو جسٹس ایم کے ٹھکر کی عدالت نے معاملے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
نائر کے وکیل نے حتمی حکم آنے تک عبوری رہائی کی درخواست کی، لیکن عدالت نے یہ کہتے ہوئے راحت دینے سے انکار کر دیا کہ معاملے کی سماعت مکمل ہوچکی ہے اور حکم سنایا جانا باقی ہے۔ ہائی کورٹ نے حکم کے لیے 30 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
اس معاملے کی شروعات 2021 میں اڈانی گروپ کی جانب سے دائر فوجداری ہتک عزت کی شکایت سے ہوئی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ نائر نے 2020-21 کے دوران سوشل میڈیا پوسٹس اور اڈانی واچ ویب سائٹ پر شائع مضامین کے ذریعے اڈانی گروپ کے بارے میں ایسے الزامات عائد کیے جن سے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ فروری میں مجسٹریٹ کی عدالت نے نائر کو فوجداریہتک عزت کا قصوروار قرار دیا تھا، جس کے خلاف ان کی اپیل فی الحال زیر التوا ہے۔
اس سے قبل 16 مارچ کو بھی روی نائر نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس وقت انہوں نے گجرات کرائم برانچ کی جانب سے جاری نوٹس کو چیلنج کیا تھا۔ اس وقت جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے کہا تھا کہ عرضی گزار مناسب دائرۂ اختیار رکھنے والی ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے کہا تھا کہ جب معاملہ متعلقہ دائرہ ٔ اختیار رکھنے والی ہائی کورٹ کے سامنے اٹھایا جا سکتا ہے تو براہ راست آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کیوں کیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد