
نئی دہلی، 24 ستمبر (ہ س)۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعرات کو الیکشن کمیشن پر ووٹر فہرست اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کو روکنے میں ناکام رہنے کا الزام عائد کیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں مبینہ ’ووٹ چوری‘ جمہوری نظام کے لیے سنگین خطرہ ہے اور 2024 کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں ہوئی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
راہل گاندھی نے یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت مخالف لہر ہندوستانی سیاست کی ایک مستحکم اور بنیادی طاقت ہے، جو کسی بھی حکومت کو نہیں بخشتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تقریباً 50 برس سے سیاسی ماحول کو دیکھ رہے ہیں اور انہوں نے بارہا دیکھا ہے کہ مقبول حکومتوں اور رہنماوں کے خلاف بھی وقت کے ساتھ حکومت مخالف جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے 1971 کی بنگلہ دیش جنگ کے بعد اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی مقبولیت اور اس کے بعد ابھرنے والی حکومت مخالف لہر کی مثال بھی دی۔
کانگریس رہنما نے سوال اٹھایا کہ جب کانگریس اور علاقائی جماعتوں سمیت مختلف جماعتوں اور رہنماوں کو حکومت مخالف لہر کا سامنا کرنا پڑا ہے تو حالیہ انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے خلاف ایسی کیفیت کیوں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے ہریانہ، مہاراشٹر، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور گجرات کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تبدیلی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ راہل گاندھی نے اسی سوال کو انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ’ووٹ ملک کی بنیاد ہے‘ اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ووٹر کے ووٹ کی حفاظت کرنا ہے۔
انہوں نے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) اور ووٹر فہرستوں کو لے کر بھی سنگین الزامات عائد کیے۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ووٹر فہرست میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے بھی ووٹرفہرست میں اس طرح کی تبدیلیاں کی جا رہی تھیں۔ انہوں نے مہاراشٹر اور مغربی بنگال کی مثال دیتے ہوئے ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور بعد میں نام بحال کیے جانے سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دیا اور سوال اٹھایا کہ مختلف مراحل میں جاری کی گئی ووٹر لسٹ میں سے صحیح فہرست کون سی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ووٹر فہرست کی شفافیت اور سالمیت یقینی بنانی چاہیے، لیکن ان کے مطابق کمیشن اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ووٹر فہرست میں تبدیلی کے لیے مختلف سطحوں پر کئی لوگوں کو مختلف نوعیت کی رسائی حاصل ہے اور اسی نظام میں مبینہ بے ضابطگی کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس الیکشن کمیشن میں وسیع اصلاحات کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
انہوں نے الیکشن کمیشن کے اندر دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کئی مواقع پر سوالات اٹھائے۔ راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے پاس انتخابی عمل سے متعلق اہم معلومات ہیں تو انہیں سامنے آنا چاہیے۔
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی انتخابات میں ’100 فیصد‘ دھاندلی ہوئی ہے اور کہا کہ ان کے پاس اپنے الزامات کی حمایت میں کافی معلومات ہیں۔ راہل گاندھی نے گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹروں کے حقوق اور انتخابی عمل کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد