
کٹھمنڈو، 24 ستمبر (ہ س): نیپال حکومت تباہ کن سیلاب میں لاپتا افراد کے تین ماہ تک نہ ملنے کی صورت میں انہیں مردہ قرار دے کر موت کا اندراج کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ نیپال پولیس کے ترجمان اور ڈی آئی جی ابھینارائن کافلے کے مطابق، سیلاب کے بعد اب بھی 4,655 افراد لاپتا ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔
حکومت نے ’ڈیزاسٹر سے متعلق بعض نیپالی قوانین میں ترمیم سے متعلق ایکٹ، 2083‘ کے ذریعے اس سلسلے میں قانونی انتظام کرنے کا عمل آگے بڑھایا ہے۔ مجوزہ قانون کے فوری طور پر نافذ ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے تحت سنگین نوعیت کی آفات سے نمٹنے کے لیے خصوصی دفعات کی جائیں گی۔ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ ایکٹ، 2074 میں ترمیم کرکے دفعہ 33 (اے) شامل کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں سنگین آفت میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کی تلاش، تحفظ اور اہل خانہ کے حوالے کرنے کے طریقۂ کار کا تعین کرنے کی گنجائش ہوگی۔
بدھ تک 1,436 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔ ان میں سے 1,292 لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی اور انکی آخری رسومات ادا کردی گئیں۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت ہونے کی صورت میں لاشیں متعلقہ خاندانوں کے حوالے کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ جن لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی، انہیں الگ الگ تھیلوں میں ان کی تفصیلات کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔ شناخت ہوجانے کے بعد متعلقہ اہل خانہ دفن کی گئی لاش حاصل کرسکیں گے۔
اب تک 1,286 لاشوں اور 1,997 اہل خانہ کے ڈی این اے نمونے جمع کیے جاچکے ہیں۔ ڈی آئی جی کافلے کے مطابق، اب تک جمع کیے گئے تقریباً نصف نمونوں کی رپورٹ بھی موصول ہوچکی ہے۔
حکومت کے مجوزہ قانون میں کہا گیا ہے کہ اگرسیلاب کے بعد تین ماہ تک تلاش کے باوجود کوئی شخص نہیں ملتا ہے تو اسے مردہ تصور کرتے ہوئے موت کا اندراج کیا جاسکے گا۔ لاپتہ افراد کے خاندانوں کو ملنے والی امداد کے حوالے سے بھی قانون میں واضح انتظام کیا جارہا ہے۔ تین ماہ بعد انہیں بھی دیگر متوفین کے خاندانوں کی طرح سرکاری امداد فراہم کرنے کی شق شامل کی جائے گی۔
حکومت نے بھوٹے کوشی علاقے کو تین ماہ کے لیے آفت سے متاثرہ علاقہ قرار دیا ہے۔ اس مدت کے دوران تلاش اور بچاؤ کی کارروائی جاری رہے گی۔ اس کے بعد بھی اگر لاپتہ شخص نہیں ملتا تو مجوزہ انتظام کے تحت اس کی موت کا اندراج کیا جاسکے گا۔
مجوزہ ترمیم کے تحت قومی شناختی کارڈ اور رجسٹریشن ایکٹ میں بھی تبدیلی کی جائے گی۔ سیلاب میں بعض خاندانوں کے تمام افراد کے لاپتہ ہونے کی صورت میں موت کے اندراج کی اطلاع کون دے گا، اس کے لیے بھی نئی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اگر لاپتہ شخص کا کوئی سرپرست یا قانونی وارث نہیں ہے تو مقامی سطح کے سربراہ یا متعلقہ وارڈ کے صدر کی جانب سے دی گئی معلومات کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ غیر ملکی شہریوں کے معاملے میں نیپال میں موجود یا نیپال کے لیے تسلیم شدہ متعلقہ ملک کا سفارت خانہ یا سفارتی مشن اطلاع دے سکے گا۔
مجوزہ انتظام کے مطابق، سیلاب کے بعد لاپتہ شخص کی تلاش کے باوجود اس کے نہ ملنے کی صورت میں اس کے مستقل پتے یا واقعے کے مقام والے مقامی ادارے کے رجسٹریشن افسر کے دفتر میں موت کے اندراج کی اطلاع دی جاسکے گی۔ یہ اطلاع آفت سے متاثرہ علاقے کے اعلان کی مدت ختم ہونے یا تلاش اور بچاؤ کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد دی جاسکے گی۔
موت کے اندراج کے لیے لاپتا شخص کے شہریت سرٹیفکیٹ کی نقل اور اطلاع دینے والے شخص کی شہریت کی نقل ضروری ہوگی۔ غیر ملکی شہری کے معاملے میں متوفی اور اطلاع دینے والے شخص کا پاسپورٹ، ویزا اور واقعے کے مقام والے مقامی ادارے کی سفارش ضروری ہوگی۔ اگر سفارت خانہ یا سفارتی مشن اطلاع دیتا ہے تو اس کا سفارشی خط بھی ضروری ہوگا۔
ان دستاویزات کی بنیاد پر متعلقہ مقامی ادارے کے رجسٹریشن افسر کو اطلاع دینے کے بعد موت کا اندراج کیا جائے گا اور سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد