
لداخ, 24 ستمبر (ہ س): لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے گزشتہ سال 24 ستمبر کو لیہہ میں ہونے والے تشدد کے سلسلے میں 20 افراد کے خلاف درج فوجداری مقدمات واپس لینے کی منظوری دے دی ہے۔
مقدمات بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا 2023 کی دفعہ 360 کے تحت واپس لیے گئے ہیں۔ لداخ پولیس کی جانب سے مقدمات کی تحقیقات اور موجودہ صورتحال کا جامع جائزہ لینے کے بعد مقدمات واپس لینے کی سفارش کی گئی تھی، جسے لیفٹیننٹ گورنر نے امن، عوامی سکون اور سماجی ہم آہنگی کے وسیع تر مفاد میں منظور کیا۔
گزشتہ سال 24 ستمبر کو لیہہ میں شدید بدامنی کے بعد پولیس نے ہنگامہ آرائی اور آتش زنی کے متعدد مقدمات درج کیے تھے۔ ان مقدمات میں 87 افراد کی شناخت ہوئی تھی، جن میں سے 81 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس نے ایف آئی آر نمبر 144/2005، پولیس اسٹیشن لیہہ سے متعلق 20 افراد کے خلاف فوجداری کارروائی واپس لینے کی سفارش کی تھی۔
لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے کہا کہ مقدمات سے فارغ کیے گئے افراد اپنی زندگی اور مستقبل کو مثبت انداز میں آگے بڑھا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طویل قانونی کارروائی کے بجائے انصاف اور بحالی کو ترجیح دینے سے لداخ میں امن اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔
اس سے قبل 13 ستمبر کو لیفٹیننٹ گورنر نے 24 ستمبر کے تشدد میں ہلاک ہونے والے چار افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 15 لاکھ روپے معاوضے کی منظوری دی تھی۔ شدید زخمی افراد کے لیے 3 لاکھ روپے اور معمولی زخمیوں کے لیے ایک لاکھ روپے کی مالی امداد بھی منظور کی گئی تھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر