لاہور ہائی کورٹ کا عمران خان کی بہنوں عظمیٰ اور نورین کی حراست پر فوری روک لگانے سے انکار
اسلام آباد، 24 ستمبر (ہ س)۔ لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو حراست میں رکھنے کے احکامات پر فوری روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جواب م
Lahore-Court-rejects-request-of-Imran-Khans-sister


اسلام آباد، 24 ستمبر (ہ س)۔ لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو حراست میں رکھنے کے احکامات پر فوری روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جواب موصول ہونے کے بعد حراست کے احکامات پر روک لگانے کی درخواست پر فیصلہ کیا جائے گا۔

لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت 30 دن کی حراست کے احکامات جاری کیے تھے۔ سماعت کے دوران دونوں خواتین کے وکلا نے دلیل دی کہ عظمیٰ اور نورین سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں اور ان کی حراست کی کوئی مناسب بنیاد نہیں ہے۔ وکلا نے یہ بھی کہا کہ عظمیٰ خان کو ان کے خلاف درج ایک معاملے میں پہلے ہی بری کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے دونوں کے حراستی احکامات فوری طور پر معطل کرنے کی درخواست کی۔

یہ عرضی عمران خان کی تین بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو پولیس حراست میں لیے جانے کے بعد دائر کی گئی ہے۔ اس معاملے میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر، کیپٹل سٹی پولیس آفیسر، محکمہ داخلہ کے سکریٹری اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande