
جموں, 24 ستمبر (ہ س): جموں میں پالتو جانوروں کی آخری رسومات کے لیے الیکٹرک شمشان گھاٹ جلد شروع ہونے والا ہے۔ کوٹ بھلوال کے علاقے میں جموں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے قائم کیا گیا یہ شمشان گھاٹ تقریباً دو کنال اراضی پر بنایا گیا ہے، تاہم اسے فعال کرنے کے لیے جموں و کشمیر آلودگی کنٹرول کمیٹی کی اجازت درکار ہے۔
جموں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر ڈاکٹر دیوانش یادو نے بتایا کہ شمشان گھاٹ کے لیے آلودگی کنٹرول کمیٹی سے اجازت طلب کی گئی ہے اور منظوری ملتے ہی یہاں خدمات شروع کردی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل فریش ایئر پروگرام کے تحت منعقدہ حالیہ اجلاس میں جانوروں کے لیے برقی شمشان گھاٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 70 سے 80 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں اور شمشان گھاٹ کا آزمائشی مرحلہ بھی مکمل ہوچکا ہے۔ یہاں ایک وقت میں 70 سے 80 کلوگرام تک وزن والے جانور کی آخری رسومات ادا کی جاسکیں گی۔ یہ سہولت کتوں، بلیوں، بکریوں، چھوٹے بچھڑوں اور بھیڑوں جیسے چھوٹے جانوروں کے لیے ہوگی۔
جموں میونسپل کارپوریشن کے پرنسپل ویٹرنری افسر ڈاکٹر جسونت سنگھ نے کہا کہ یہ سہولت پالتو جانوروں سے وابستہ جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم کی گئی ہے، تاکہ لوگ اپنے پالتو جانوروں کی باعزت اور ماحول دوست طریقے سے آخری رسومات ادا کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ جانوروں کی لاشوں کو غیر منصوبہ بند طریقے سے پھینکنے سے صفائی کے مسائل پیدا ہونے کے ساتھ بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ تاہم ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ آخری رسومات کی سہولت مفت فراہم کی جائے گی یا اس کے لیے فیس وصول کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق بڑے جانوروں کے لیے شمشان گھاٹ کی اجازت نہیں ہے۔ فی الحال بڑے مردہ جانوروں کو جموں میونسپل کارپوریشن کا عملہ اٹھا کر کوٹ بھلوال کے ڈمپنگ مقامات کے قریب گہرے گڑھوں میں دفن کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر