
نئی دہلی، 24 ستمبر (ہ س):۔
ہندوستھان سماچار کے گروپ ایڈیٹر اور آئی جی این سی اے کے چیئرمین رام بہادر رائے نے جمعرات کو دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترن جیت سنگھ سندھو کے سامنے جمنا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے عملی حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ متوازی نالہ تعمیر کیا جائے، پشتوں سے تجاوزات ہٹائی جائیں اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) کے ساتھ ساتھ بدعنوانی پر بھی روک لگائی جائے۔
رام بہادر رائے نے یہ بات آج دہلی میں واقع اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس (آئی جی این سی اے) میں 24 سے 26 ستمبر تک منعقد ہونے والے ساتویں ’ندی اتسو‘ کے افتتاح کے موقع پر کہی۔
دہلی میں جمنا ندی کی بدحالی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”جمنا میں گندے نالوں کا پانی گرنا فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ اس کے لیے جمنا کے دونوں پشتوں کے ساتھ وزیرآباد سے اوکھلا تک ایک چوڑا اور طویل متوازی نالہ تعمیر کیا جائے۔ شہر اور مشرقی دہلی کے تمام گندے نالوں کا پانی اسی میں موڑ دیا جائے اور اوکھلا میں ایک بڑا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) قائم کرکے اس پانی کو صاف کیا جائے۔“
انہوں نے لندن کی ٹیمز اور برلن کی ندیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب ان ندیوں کو صاف کیا جا سکتا ہے تو جمنا کو کیوں نہیں صاف کیا جا سکتا۔
پشتوں سے تجاوزات ہٹانے کے موجودہ اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشتوں پر بڑے پیمانے پر شجرکاری کرکے گھنے جنگلات تیار کیے جانے چاہئیں۔
سوامی اودھیش آنند کی جانب سے نرمدا کے حوالے کا ذکر کرتے ہوئے رائے نے کہا کہ درختوں کے پتے اور بارش کا پانی مل کر ندی کا اپنا ایک قدرتی ماحولیاتی نظام تشکیل دیں گے، جو پانی کو قدرتی طور پر صاف رکھنے میں مدد کرے گا۔
انہوں نے مزید ایس ٹی پی قائم کرنے اور بدعنوانی پر روک لگانے پر زور دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انجینئر بدعنوانی کی وجہ سے ہر جگہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کا مشورہ دیتے ہیں، جو حقیقت میں مو¿ثر طریقے سے کام نہیں کرتے۔ ان کی جگہ پورے گندے پانی کو ایک الگ چینل میں منتقل کرنا ہی مستقل حل ہے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ وزیرآباد سے اوکھلا تک دونوں کناروں پر بڑے متوازی نالے تعمیر کرکے گندے پانی کو براہ راست اوکھلا ٹریٹمنٹ پلانٹ تک پہنچایا جائے، تاکہ مرکزی ندی میں گندے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اب تک منا کی صفائی کے نام پر خرچ کیے گئے ہزاروں کروڑ روپے کی غیر جانب دارانہ جانچ اور آڈٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔
اپنے خطاب میں رام بہادر رائے نے ماہر ماحولیات انوپم مشرا کے ساتھ جمنا پر کیے گئے مطالعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت کے آبپاشی کے وزیر چودھری پریم سنگھ اور چیف انجینئر کے تعاون سے انہوں نے وزیرآباد سے اوکھلا تک کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دو کشتیوں کی ضرورت پڑی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وزیرآباد سے اوکھلا کے درمیان 22 کلومیٹر کے علاقے میں 26 بڑے نالے جمنا میں گرتے ہیں، جن میں سے کئی کبھی ندیاں ہوا کرتے تھے۔ 130 کلومیٹر طویل ندی نجم گڑھ آج نالہ بن کر جمنا کو آلودہ کر رہی ہے۔ بارش کے علاوہ جمنا میں جو پانی نظر آتا ہے، وہ صرف ان نالوں کا گندا پانی ہے۔ آج صورتحال پہلے کے مقابلے دوگنی خراب ہو چکی ہے۔
رائے نے سخت الفاظ میں کہا کہ جمنا کی صفائی کے نام پر اب تک عوام کے ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، لیکن کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے خرچ کا خصوصی آڈٹ کرایا جائے اور ذمہ داری طے کرکے بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ