ڈی کے شیوکمار نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا
بنگلورو، 24 ستمبر (ہ س)۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے موجودہ خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو منسوخ کر کے ووٹرفہرستوں کی ازسرنو نظرثانی کرا
state-farmers-people-protection-commitment-cm-dk-shivakumar


بنگلورو، 24 ستمبر (ہ س)۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے موجودہ خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو منسوخ کر کے ووٹرفہرستوں کی ازسرنو نظرثانی کرانے کا مطالبہ کیا۔

جمعرات کو بنگلورو میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ ووٹ دینے کا حق زندگی گزارنے کے حق کے برابر ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عام شہریوں کے حق رائے دہی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال اور بہار سمیت کئی ریاستوں میں ایسی کوششیں کی گئی ہیں اور اب کرناٹک سمیت دیگر ریاستوں میں بھی ایسا کیا جا رہا ہے۔ شیوکمار نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے بدھ کو انتخابی کمیشن سے مزید وقت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

انتخابی کمیشن کے ارکان کے درمیان اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے شیوکمار نے الزام عائد کیا کہ کمیشن کو دی گئی خودمختاری کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ارکان کی اکثریت کسی رائے سے متفق نہ ہو تو کسی فیصلے کو یکطرفہ طور پر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورت میں اعلی انتخابی کمشنر کو اخلاقی بنیادوں پر رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

ڈی کے شیوکمار نے موجودہ ایس آئی آر کے عمل کو منسوخ کر کے ازسرنو نظرثانی کرانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانگریس یا بی جے پی کے ووٹوں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ہر شہری کے حق رائے دہی کا سوال ہے۔

ووٹروں کی فہرست کی نظرثانی میں استعمال ہونے والے فارم 6، 7 اور 8 کا حوالہ دیتے ہوئے شیوکمار نے موجودہ عمل پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کا خاص اثر ناخواندہ اور محروم طبقے کے لوگوں پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض رائے کا معاملہ نہیں بلکہ بنیادی حق کا مسئلہ ہے اور یہ عام لوگوں کی آواز ہے۔ شیوکمار نے کہا کہ اس مسئلے پر پارلیمنٹ سمیت وسیع تر پلیٹ فارم پر بحث ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئے سرے سے ایس آئی آر کرایا جانا چاہیے، تمام شہریوں کے حقوق یقینی بنائے جانے چاہئیں اور ہر شخص کے حق رائے دہی کو یقینی بنانے کے لیے پوری صورتحال کا جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ووٹرز سے متعلق اعداد و شمار کی بھی دوبارہ جانچ کی جانی چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande