بلوچستان میں 10 دن کے دوران بی ایل اے کے ساتھ جھڑپوں میں 18 فوجی ہلاک، پورے صوبے میں 23 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ
کوئٹہ (بلوچستان)، پاکستان، 24 ستمبر (ہ س): ۔ پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں 10 دنوں، یعنی 14 سے 23 ستمبر کے درمیان، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ساتھ جھڑپوں میں پاکستانی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ بی ایل اے کے جنگجوو¿ں
بلوچستان میں 10 دن کے دوران بی ایل اے کے ساتھ جھڑپوں میں 18 فوجی ہلاک، پورے صوبے میں 23 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ


کوئٹہ (بلوچستان)، پاکستان، 24 ستمبر (ہ س): ۔

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں 10 دنوں، یعنی 14 سے 23 ستمبر کے درمیان، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ساتھ جھڑپوں میں پاکستانی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ بی ایل اے کے جنگجوو¿ں نے ان لڑائیوں کے دوران 18 فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس دوران پورے صوبے میں 23 ستمبر سے 23 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری حمزہ شفقت نے 23 ستمبر کو آئندہ ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ اس کے تحت اس مدت کے دوران عوامی مقامات پر اسلحہ لے کر چلنے، لوگوں کے جمع ہونے، دھرنا دینے، ریلی اور احتجاج کرنے پر پابندی رہے گی۔ پانچ سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر بھی پابندی ہوگی۔ شناخت چھپانے میں مدد دینے والے چہرہ ڈھانپنے والے کپڑوں، نقاب یا کسی دوسرے طریقے کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے کہا کہ بلوچوں پر ظلم کرنے والی حکومت کے خلاف لڑائی میں تنظیم کے شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سات دنوں کے دوران ان کے جنگجوو¿ں کا فوج کے ساتھ 25 مقامات پر سامنا ہوا۔ ان جھڑپوں میں پاکستانی فوج کے 18 اہلکار ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی ایل اے نے مند اور خضدار کے پولیس اسٹیشنوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ان علاقوں میں موجود فوجی تنصیبات کو دھماکوں سے تباہ کر دیا گیا۔

ترجمان کے مطابق 14 ستمبر کو پنجگور کے گوارگو علاقے میں فوج کے حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔ 15 ستمبر کو گوارگو اور فتح علی کے درمیان فوج کے جاسوسی کیمروں کے لیے نصب ایک مواصلاتی ٹاور کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ 16 ستمبر کو ک±لواہ کے بدرنگ علاقے میں فوجی گاڑیوں پر حملہ کیا گیا، جس میں چار فوجی ہلاک ہوئے۔ تربت کے کلاتک علاقے میں مینو کراس کے مقام پر دو فوجی مارے گئے جبکہ کم از کم چار زخمی ہوئے۔ اسی طرح خاران میں ایک جھڑپ کے دوران فوج کا ایک افسر بھی ہلاک ہوا۔

انہوں نے کہا کہ 17 ستمبر کو خضدار کے سونارو علاقے میں فوجی گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا۔ اسی روز خاران میں جنگجوو¿ں نے ملا بخش منڈئی کے بیٹے محبوب کو گرفتار کر لیا۔ ترجمان نے الزام لگایا کہ وہ پاکستانی فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے لیے کام کرتا تھا۔ بلوچ نیشنل کورٹ اسے غداری کے سنگین جرم میں سزائے موت سنا چکی ہے۔ 17 ستمبر ہی کو پنجگور کے گوارگو علاقے میں جنگجوو¿ں نے فوجی گاڑی پر حملہ کیا، جس میں چار فوجی موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ فوج کا ایک کواڈ کاپٹر بھی مار گرائے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔

اس سے قبل 6 ستمبر کو مستونگ کے کھڑکوچہ علاقے میں پاکستانی فوج کے ساتھ ہوئی جھڑپ میں بی ایل اے کے دو کمانڈر، عرفان مینگل عرف خلیل اور رفیع اللہ گرگنادی عرف تنویر، ہلاک ہوگئے تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande