



ایک کھیت، 45 فصلیں اور پانی کی 80 فیصد تک بچت! ملٹی لیئر زراعت سے ملک بھر کے کسان خود کفالت کا منتر سیکھ رہے ہیں
۔ ڈاکٹر بننے کا خواب چھوڑا، ساگر کے آکاش چورسیہ نے زراعت کو اختراع کا ماڈل بنایا
ڈاکٹر مینک چترویدی
بھوپال، 24 ستمبر (ہ س)۔ ایک طرف زراعت کے لئے زمین کا گھٹتا رقبہ، پانی کا بحران، مٹی کی گرتی صحت اور مسلسل بڑھتی لاگت چیلنج بن رہی ہے، تو دوسری طرف ساگر کے ایک نوجوان کسان نے اسی بحران میں حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ شہروں کی کثیر منزلہ عمارتوں سے نکلا ایک خیال کھیت تک پہنچا اور ایک ہی زمین پر کئی سطحوں میں فصلیں اگانے کا تجربہ شروع ہوا۔ نتیجہ سامنے آیا تو کھیت میں 40 سے 45 اقسام کی فصلیں ایک ساتھ اگنے لگیں۔
دراصل، ساگر کے آکاش چورسیہ کی ’’ملٹی لیئر ایگریکلچر تکنیک‘‘ اب کسانوں کے درمیان موضوعِ بحث ہے۔ ان کے مطابق اس طریقے سے پانی کے استعمال میں 70 سے 80 فیصد تک بچت کا امکان ہے۔ آکاش کی کہانی اس سوچ کا نتیجہ ہے جس میں کسان کو اپنی زمین، پانی، بیج اور وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے والا خود کفیل زرعی کاروباری بنانے کی کوشش نظر آتی ہے۔
اسپتالوں سے کھیت تک بدلی زندگی کی سمت
پان کی کاشت کرنے والے خاندان سے تعلق رکھنے والے آکاش بچپن میں ڈاکٹر بننا چاہتے تھے۔ میڈیکل کے شعبے سے وابستگی کے دوران اسپتالوں میں بڑھتی بیماریوں اور مریضوں کو دیکھ کر ان کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ بیماری کے علاج کے ساتھ اس کی وجوہات پر بھی غور کیوں نہ کیا جائے۔ خوراک اور صحت کے باہمی رشتے نے ان کی سوچ بدل دی اور انہوں نے سال 2009 سے زراعت کا راستہ چن لیا۔ بندیل کھنڈ میں سنی کہاوت، ’’جیسا کھاو گے اَن، ویسا ہوگا من؛ جیسا ہوگا من، ویسا ہوگا تن‘‘ ان کی زرعی زندگی کا اصول بن گئی۔ انہوں نے کیمیکلز سے پاک خوراک اور قدرتی کاشتکاری کو اپنے تجربات کی بنیاد بنایا۔
کثیر منزلہ عمارت سے نکلا کاشتکاری کا خیال
آکاش نے شہروں میں کثیر منزلہ عمارتیں دیکھیں تو سوال کیا کہ جب کم زمین پر کئی منزلوں کے ذریعے زیادہ جگہ کا استعمال کیا جا سکتا ہے، تو کھیت میں زمین کی مختلف بلندیوں اور سطحوں کا استعمال کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ یہیں سے ملٹی لیئر زراعت کے خیال نے جنم لیا۔ چار سے پانچ سال کے تجربات کے بعد سال 2014 میں انہوں نے اس کا ماڈل تیار کیا۔ آج ان کے مطابق ایک ہی کھیت میں دھنیا، پالک، میتھی، چقندر، پیاز، لہسن، پپیتا، گاجر، مولی اور سہجن سمیت 40 سے 45 اقسام تک کی فصلیں اگائی جا رہی ہیں۔ یہ انتظام کھیت کے ہر حصے اور دستیاب وسائل کو مختلف سطحوں پر استعمال کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس کا مقصد ایک ہی فصل پر انحصار کم کرنا اور ایک ہی زمین سے متنوع زرعی پیداوار حاصل کرنا ہے۔
پانی بچانے سے بیج بچانے تک
آکاش اس کے ساتھ ہی آج زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافے (واٹر ریچارجنگ)، تحفظِ خاک، قدرتی کھاد کی تیاری اور دیسی بیجوں کے تحفظ سمیت چھ تکنیکی شعبوں پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے 105 اقسام کے دیسی بیج محفوظ کیے ہیں اور 2.5 لاکھ سے زائد کسانوں تک دیسی بیج پہنچانے کی بات کہی ہے۔ فصل کی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد، دودھ کی پیداوار میں 15 فیصد اور کینچوے کی کارکردگی میں 25 فیصد بہتری کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ ان کا زور مٹی کی زرخیزی پر بھی ہے۔ فی ایکڑ تقریباً 10 ٹن گوبر کی کھاد کے استعمال سے مٹی میں کاربن بڑھانے کی بات وہ کہتے ہیں۔ مناسب کھاد دستیاب نہ ہو تو اڑد اور مونگ جیسی فصلوں کو مفید متبادل بتاتے ہیں۔
کھیت کے ساتھ بنا علم کا مرکز
ساگر میں انہوں نے بھارتیہ کرشی درشن کسان لائبریری بھی قائم کی ہے، جس میں پانچ ہزار سے زائد کتابوں کا ذخیرہ بتایا گیا ہے۔ زراعت کو تجربے کے ساتھ مطالعے اور تربیت سے جوڑنا ان کی کوشش کا اہم حصہ ہے۔ قدرتی کاشتکاری اور زرعی تربیت کے حوالے سے دستیاب مواد کے مطابق 780 سے زائد عملی تربیتی سیشن منعقد کیے جانے نیز تقریباً 90 ہزار ایکڑ اراضی کو قدرتی کاشتکاری سے جوڑنے کی کامیاب کوشش وہ کر چکے ہیں۔ ان کی ترغیب سے 10,500 افراد نے گائے پالنا شروع کیا ہے۔ اب تک وہ 25 یونیورسٹیوں میں مویشیوں پر مبنی زراعت پر لیکچر دے چکے ہیں۔
25 ایکڑ کا فارم، لاکھوں کا کاروبار
ساگر میں تین زرعی فارموں پر تقریباً 25 ایکڑ میں قدرتی طریقے سے وہ کاشتکاری کرتے ہیں۔ آکاش کے مطابق ان کا عام سالانہ کاروبار 40 سے 50 لاکھ روپے کے درمیان رہتا ہے۔ محدود زمین میں متنوع پیداوار اور مختلف فصلوں سے آمدنی کے مواقع پیدا کرنا اس ماڈل کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔ اب ساگر کا یہ کھیت تربیتی مرکز کا کردار ادا کر رہا ہے۔ نوئیڈا کے الیکٹریکل انجینئر رمیش گیرا کارپوریٹ سیکٹر میں طویل تجربہ حاصل کرنے کے بعد ملٹی لیئر زراعت سیکھنے پہنچے۔ پرنتی جین جیسی نوجوان صلاحیتیں زراعت کو ماحولیاتی تحفظ اور غذائی تحفظ سے جوڑ کر دیکھ رہی ہیں۔
نوجوانوں اور خواتین کے لیے بھی مواقع
ملٹی لیئر زرعی تربیت میں نوجوانوں اور خواتین کی شراکت بھی نظر آتی ہے۔ پرنتی جین نے بتایا کہ نامیاتی زراعت کے بارے میں ان کا رجحان اسکول کی سطح سے پیدا ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور غذائی تحفظ کے لیے زراعت میں نئے تجربات کی ضرورت ہے۔ وہ ملٹی لیئر فارمنگ سیکھ کر زراعت میں کچھ نیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، اس لیے وہ تربیت حاصل کرنے ساگر آئی ہیں۔
سنگرولی کی ست کماری جیسوال بھی نامیاتی زراعت کے شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تربیتی کیمپ زراعت سے متعلق تجربات کو نئی بنیاد فراہم کر رہے ہیں اور شعبۂ زراعت میں خواتین کے دیرینہ کردار کو جدید زرعی اختراعات سے جوڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ وہیں، سنگرولی سے آئے نکھل کسانوں کے دوسرے بڑے چیلنج کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔
ان کے مطابق کسان کو پیداوار کے ساتھ اپنی پیداوار کی مناسب قیمت کی فکر بھی رہتی ہے۔ وہ ملٹی لیئر فارمنگ کو زراعت میں ممکنہ متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک ایکڑ کے تجربے میں تقریباً دو لاکھ روپے خرچ کرنے اور مختلف فصلوں سے 9 سے 10 لاکھ روپے تک کا منافع حاصل ہونے کا اپنا تجربہ شیئر کیا۔
ودیشا سے تربیت حاصل کرنے آئے راجیو کا کہنا ہے کہ آکاش کو کھیتی کرتے دیکھ کر ان کی زراعت میں دلچسپی بڑھی۔ تربیت کے دوران انہوں نے کم لاگت میں مناسب منافع کے امکانات اور ملٹی لیئر فارمنگ کے لیے لکڑی کے اسٹرکچر کے استعمال کے بارے میں سیکھا۔ ان کے مطابق ایک بار اسٹرکچر تیار ہونے کے بعد تین سے پانچ سال تک اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ راجیو کے خیال میں زراعت کی ترقی کے لیے نوجوانوں کی شرکت ناگزیر ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جس طرح نوجوان دیگر شعبوں میں جدت لا رہے ہیں، اسی طرح اگر زراعت میں بھی نوجوانوں کی سرگرمی بڑھے تو کاشتکاری کو نئی تکنیک اور نئے تجربات مل سکتے ہیں۔
اعزازات بھی ملے، تجربے کا دائرہ بھی پھیلا
آکاش کے زرعی کارناموں کے لیے مختلف اعزازات کا ذکر دستیاب مواد میں ملتا ہے۔ ان میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ’یووا گرام متر‘ کا خطاب، سابق نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو کی جانب سے ’کرشی رتن‘ کا خطاب، سوامی رام دیو کا کرشی گورو سمان، آنند مہندرا کا یووا سمردھی سمان اور نوین جندل کی جانب سے نوازا جانا شامل ہے۔ جیوک انڈیا ایوارڈ کے علاوہ جے سی آئی انڈیا اور جے سی آئی جاپان سے بھی انہیں اعزازات مل چکے ہیں۔
فی الحال ساگر کے کھیت سے نکلا یہ تجربہ کسانوں کے سامنے ایک سوال چھوڑتا ہے کہ جب زمین محدود ہے تو حل زمین بڑھانے میں ہے یا اسی زمین کی صلاحیت کو نئے انداز میں بروئے کار لانے میں؟ آکاش نے اس کا جواب تجربے سے دینے کی کوشش کی ہے۔ اب ملک کے مختلف حصوں سے کسان ساگر پہنچ کر اس تجربے کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں اور اپنے کھیتوں میں اس کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن