

۔ پولیس پر دباؤ بنانے کے لیے کمرے میں بند ملزم نے بیٹے کو مار ڈالا تھا
۔ واقعے میں مجموعی طور پر پانچ افراد کی موت
اعظم گڑھ، 23 ستمبر (ہ س)۔ اتر پردیش کے اعظم گڑھ میں اہرولہ تھانہ علاقے کے شمبھوپور گاؤں میں منگل کی شام پوجا کے دوران بیوی، بچے اور دو پجاریوں کا قتل کرنے والا ملزم دیر رات پولیس انکاونٹر میں مارا گیا۔ واردات کے بعد گرفتاری کے خوف سے اس نے تینوں بچوں اور خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا تھا۔ اسے باہر نکالنے کے لیے پولیس نے تقریباً آٹھ گھنٹے تک کوشش کی، لیکن اس دوران اس نے اپنے ایک بچے کو بھی گولی مار دی۔
فائرنگ کی آواز سن کر پولیس ٹیم نے دروازہ توڑ کر کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اس نے پولیس پر بھی فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی کارروائی میں ملزم مارا گیا۔ پولیس نے دو بچوں کو بحفاظت بچا لیا ہے۔ایس ایس پی ڈاکٹر انل کمار نے بتایا کہ اعظم گڑھ ضلع کے اہرولہ تھانہ علاقے کے گاؤں شمبھوپور میں رہنے والے ملزم اروند سنگھ کے گھر میں منگل کی شام پوجا چل رہی تھی۔ اس دوران اس نے اس کی مخالفت کی اور پنڈتوں سے ان کے آدھار کارڈ مانگنے لگا، جس پر تنازعہ ہو گیا۔ معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ اروند نے پستول سے گولی چلا دی، جس میں اس کی بیوی ببیتا، پنڈت مہندر پاٹھک اور اکھلیش مشرا زخمی ہو گئے۔ اسپتال میں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ واقعے کے بعد ملزم نے تین بچوں کے ساتھ خود کو گھر میں قید کر لیا۔
معاملہ سنگین ہونے پر دیر رات وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی) نوین اروڑہ، ڈی آئی جی سنیل کمار اور ایس ایس پی ڈاکٹر انل کمار فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ پولیس نے خاندان اور پڑوسیوں کی مدد سے دروازہ کھلوانے کی کوشش کی، لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی۔
رات میں اے ٹی ایس اور ایس او جی کی ٹیم کو بھی بلا لیا گیا۔ پولیس بچوں کو بحفاظت باہر نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسی دوران کمرے کے اندر سے گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔ اس کے بعد پولیس نے دروازہ توڑ دیا اور ایس ایس پی، ایس او جی انچارج اور ایک سپاہی اندر داخل ہوئے تو اس نے مسلسل پانچ چھ راو¿نڈ فائر کیے۔ پولیس نے جوابی کارروائی میں گولی چلائی تو وہ زخمی ہو گیا۔
اس کی گود سے ایک بچی گر کر زخمی ہو گئی۔ بڑی بیٹی کو ملزم نے اپنے قبضے میں رکھا ہوا تھا۔ پولیس نے دونوں بچوں کو اپنے پاس لے لیا اور زخمی بچے شوریہ اور اروند کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے دونوں کو مردہ قرار دے دیا۔
ملزم مسلسل بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دے رہا تھا۔ ٹیم نے پورے گھر کو گھیر لیا اور افسران اسے سمجھاتے رہے۔ اس کے باوجود وہ نہیں مانا۔ اس نے پولیس پر دباو بنانے کے لیے اپنے بیٹے شوریہ کو مار ڈالا۔ گولی چلنے کی اطلاع پر اے ٹی ایس اور پولیس گھر میں داخل ہو گئی۔ اندر داخل ہوتے پولیس کو دیکھ کر اروند نے فائرنگ کی، جس میں پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے گولی چلائی اور وہ زخمی ہو گیا۔ پولیس نے دیگر دونوں بچوں کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ اروند اور شوریہ کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ واقعے کے سلسلے میں لوگوں سے معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص کافی عرصے سے ذہنی دباو میں تھا۔ اس کا رویہ عجیب و غریب رہتا تھا۔ وہ اکثر خاندان اور گاوں والوں کے ساتھ مارپیٹ کرتا تھا۔ اسی بات سے پریشان ہو کر ملزم کی ماں اور بیوی نے یہ سمجھا کہ اس پر کسی بھوت پریت کا سایہ ہے۔
اس بات کو سمجھتے ہوئے پوجا اور انوشٹھان کا پروگرام اپنے گھر پر رکھا گیا تھا۔ یہ پانچ دن کا پروگرام تھا، جس میں چار دن سے یہ پروگرام چل رہا تھا۔ اسی پروگرام کے دوران ملزم اروند نے اس بات سے ناراض ہو کر بیوی اور دو افراد کو گولی مار دی۔ اس کے بعد اس نے اپنے ساتھ تین بچوں کو کمرے میں بند کر لیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد