ڈی ایم میدھا روپم پر جرمانے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا
نئی دہلی، 23 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے گوتم بدھ نگر کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عائد کیے گئے جرمانے کے حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سماعت کے بعد بدھ کے روز اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ الہ آباد
ڈی ایم میدھا روپم پر جرمانے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا


نئی دہلی، 23 ستمبر (ہ س)۔

سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے گوتم بدھ نگر کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عائد کیے گئے جرمانے کے حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست پر سماعت کے بعد بدھ کے روز اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے دہلی یونیورسٹی کی طالبہ آکرتی چودھری کی قومی سلامتی قانون (راسوکا) کے تحت مبینہ غیر قانونی گرفتاری کے معاملے میں میدھا روپم کی تنخواہ سے 5 لاکھ روپے بطور معاوضہ وصول کرنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس ستیش چندر شرما کی سربراہی والی بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھنے کا حکم دیا۔

رپورٹ کے مطابق اپریل میں نوئیڈا میں مزدوروں کے احتجاج کے دوران پولیس نے آکرتی چودھری کو گرفتار کیا تھا۔ یہ احتجاج مزدوروں کے حقوق اور اجرت میں اضافے کے مطالبے کو لے کر کیا گیا تھا۔ بعد میں ضلع انتظامیہ نے آکرتی پر تشدد بھڑکانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف راسوکا نافذ کر دیا تھا۔آکرتی نے اس کارروائی کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ آکرتی کی جانب سے لوگوں کو تشدد کے لیے اکسانے کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ پرامن طریقے سے احتجاج کرنا اور اپنے خیالات کا اظہار کرنا آئین کے تحت حاصل حق ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے آکرتی کی حراست منسوخ کرتے ہوئے گوتم بدھ نگر کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم کے خلاف سخت تبصرے کیے تھے۔ عدالت نے حراست کو من مانا قرار دیتے ہوئے میدھا روپم اور دیگر ذمہ دار افسران کی تنخواہوں سے آکرتی کو 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔اب میدھا روپم کی جانب سے ہائی کورٹ کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، جس پر سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande