
ماسکو، 23 ستمبر (ہ س/ریا نووستی)۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بدھ کے روز کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ملاقات کے معاملے پر روس کا موقف واضح ہے۔ اگر زیلنسکی چاہیں تو وہ ماسکو آ سکتے ہیں اور روس انہیں ضروری سکیورٹی کی ضمانت فراہم کرے گا۔
پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پوتن اور زیلنسکی کی ملاقات کے حوالے سے روس کا موقف سب کے سامنے ہے۔ پوتن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر زیلنسکی چاہیں تو ماسکو آ سکتے ہیں اور انہیں ضروری سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق زیلنسکی کو یہ بھی بخوبی معلوم ہے کہ اس سلسلے میں کن فیصلوں کی ضرورت ہے۔
تاہم کریملن کے ترجمان نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر ضروری کام مکمل کیے بغیر پوتن اور زیلنسکی کی ملاقات عملی طور پر بے سود ہوگی اور اس طرح ملاقات کرنا محض وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔اس سے قبل پیسکوف نے کییف انتظامیہ پر مسلسل دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کی موجودہ سرگرمیوں کے باعث فی الحال مذاکرات کے ذریعے امن کی راہ ہموار ہونے کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی، تاہم روس پرامن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔پیسکوف نے مزید دعویٰ کیا کہ یورپی ممالک کی جانب سے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے اضافی فنڈز کا انتظام کرنے کی کوششوں کے باعث یوکرین کی عسکری تیاری جاری ہے۔
کریملن ترجمان نے برطانوی قیادت پر بھی روس مخالف جذبات کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی، فرانس اور کئی دیگر یورپی ممالک میں بھی روس کے خلاف اسی طرح کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان نئی ملاقات کے امکان کے بارے میں پیسکوف نے کہا کہ فی الحال اس حوالے سے کوئی ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پوتن ایسی ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق پوتن اور ٹرمپ اپنی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران بھی ضرورت پڑنے پر مستقبل میں دوبارہ ملاقات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق طالب علم اسامہ نور کو لندن اسکول آف اکونومکس میں ایل ایل ایم کی تعلیم کے لیے شیونگ اسکالرشپ ملی
نئی دہلی،23ستمبر(ہ س)۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ قانون (دوہزار تیئس بیچ)کے سابق طالب علم، اسامہ نور کو برطانیہ کی حکومت کی جانب سے باوقار ’شیوننگ اسکالرشپ‘سے نوازا گیا ہے۔ انھوں نے لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس(ایل ایس ای) میں ماسٹر آف لا(ایل ایل۔ایم)کی تعلیم کا آغاز کیا ہے۔
مکمل مالی معاونت کی حامل شیوننگ اسکالرشپ برطانوی حکومت کا ایک نمایاں بین الاقوامی ایوارڈ پروگرام ہے، جس کا مقصد دنیا بھر سے ابھرتے ہوئے نمایاں رہنماؤں کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ برطانیہ میں پوسٹ گریجویٹ تعلیم حاصل کر سکیں۔ایل ایس ای میں داخلہ سے قبل، اسامہ نور نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں دو سال تک بطور ’لاکلرک-کم-ریسرچ ایسوسی ایٹ‘ اپنی خدمات انجام دیں ہیں۔لندن روانگی سے قبل، اسامہ نور نے شعبہ قانون کے ڈین، پروفیسر (ڈاکٹر) غلام یزدانی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران، پروفیسر یزدانی نے انھیں اس باوقار اسکالرشپ کے حصول پر مبارک باددیتے ہوئے ان کے استقلال اور دلجمعی کی تعریف کی اور یونیورسٹی میں قیام کے دوران ان کی حاضری کے بہترین ریکارڈ اور تعلیمی لگن کو خوشگوار انداز میں یاد کیا۔جامعہ میں دوران طالب علمی گزارے ہوئے اپنے وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے نور نے کہا،”جامعہ نے مجھے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جس میں میں تعلیم حاصل کر سکا، اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکا اور اپنے مستقبل کی راہ متعین کر سکا۔ میں فیکلٹی آف لا اور ان اساتذہ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنھوں نے میری رہنمائی اورمیری سرپرستی فرمائی۔ ایل ایس ای میں اپنے سفر کا نیا باب شروع کرنے سے قبل فیکلٹی میں دوبارہ آنا میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے“۔
ادارے کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے، پروفیسر یزدانی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ، پروفیسر مظہر آصف اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مسلسل حمایت وسرپرستی اور بصیرت افروز قیادت کا اعتراف کیا اور طلبہ میں تعلیمی فضیلت اور عالمی سطح کے عزائم کو فروغ دینے والا ماحول پیدا کرنے کے لیے ان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔پروفیسریزدانی نے کہا کہ فیکلٹی کو اس بات پر بے حد فخر ہے کہ اس کے فارغ التحصیل طلبہ دنیا کی ممتازاور سرکردہ یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ نور فیکلٹی آف لا سے چوتھے ’چیوننگ اسکالر‘ ہیں۔ان سے قبل ادریس محمد، نبیلہ جمیل اور آفرین قاضی یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔اور وہ مسلسل تین برسوں میں منتخب ہونے والے تیسرے اسکالر ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ سنگِ میل فیکلٹی کے شان دار اور متحرک تعلیمی ماحول کو اجاگر کرتاہے اور یہ کامیابی نئے آنے والے طلبہ سمیت ابھرتے ہوئے نوجوان وکلا کے لیے باعث تحریک و تشویق ہوگا کہ وہ اپنے کامیاب سینئرز کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نامور بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ انھوں نے ایل ایس ای میں نور کی تعلیمی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan