اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیزشکیان کا ٹرمپ کو جواب، کہا: ایران دہشت گرد نہیں، بلکہ دہشت گردی کا شکار رہا ہے
نیویارک، 23 ستمبر (ہ س):۔ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک روز قبل دیے گئے خطاب کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران دہشت گردی کا حامی نہیں بلکہ خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ انہوں
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیزشکیان کا ٹرمپ کو جواب، کہا: ایران دہشت گرد نہیں، بلکہ دہشت گردی کا شکار رہا ہے


نیویارک، 23 ستمبر (ہ س):۔

ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک روز قبل دیے گئے خطاب کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران دہشت گردی کا حامی نہیں بلکہ خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اپنے دفاع کے لیے کارروائی کر رہا ہے اور دباو کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے۔

پیزشکیان نے کہا کہ جس جنگ کے دوران ایران میں ایک اسکول پر حملہ ہوا، اس میں بچے مارے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں امریکہ اور اسرائیل کے ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ تحقیقات کے مطابق، میناب میں فروری میں ایک پرائمری اسکول پر ہونے والے حملے میں 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 120 بچے شامل تھے۔ تاہم امریکہ نے اس حملے کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ان کا ملک جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال توانائی اور ترقی کے لیے کرنا چاہتا ہے، نہ کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا، لیکن اس کا جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

پیزشکیان نے امریکہ کے ساتھ بات چیت اور سفارت کاری کے لیے ایران کی آمادگی کا بھی اظہار کیا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات دھمکی یا فوجی دباو کی زبان میں نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں اور دباو کے باوجود ایران اپنا سر نہیں جھکائے گا۔

آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے پیزشکیان نے کہا کہ ایران ایسے حالات کو قبول نہیں کر سکتا جہاں دوسرے ممالک اس آبی راستے سے اپنے مفادات حاصل کریں اور اسی راستے کو ایران پر دباو ڈالنے کے لیے بھی استعمال کریں۔

فلسطین کے مسئلے پر انہوں نے اسے عالمی برادری کے ضمیر پر ایک ”کھلا زخم“ قرار دیا اور کہا کہ مغربی ایشیا میں مستقل امن فلسطین کے ساتھ انصاف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

پیزشکیان نے آخر میں کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی اور وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اپنے ملک کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے خطاب کے دوران امریکی وفد کے اجلاس گاہ سے باہر چلے جانے کی بات بھی سامنے آئی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande