
جموں،22 ستمبر(ہ س)۔
جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے موجودہ دور میں طلبہ کو مسلسل سیکھنے کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیت، ہمدردی اور اخلاقی اقدار کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت گار رہنا چاہیے، اس کا آقا نہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بات یونیورسٹی آف جموں میں تقریباً 10 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیے گئے مختلف نئے منصوبوں کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہی۔ افتتاح کیے گئے منصوبوں میں جدید اسپورٹس کمپلیکس، شوٹنگ رینج، کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے ہائی ماسٹ لائٹس اور توی گیسٹ ہاؤس کمپلیکس شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے باعث موجودہ دور میں تبدیلی کی رفتار بے مثال ہے اور ایسے میں تعلیمی نظام کو بھی تیزی سے بدلتے حالات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رٹنے کے بجائے طلبہ میں تجسس، غوروفکر، استدلال اور عملی صلاحیتوں کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ منوج سنہا نے کہا کہ انسانی وقار، روزگار، صحت، تعلیم اور آزادی سے متعلق اہم فیصلے ہمیشہ جواب دہ انسانوں کی جانب سے کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ مشینیں حساب اور پیش گوئی کر سکتی ہیں، لیکن احساس اور ذمہ داری کا بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی ٹیکنالوجی استاد کی جگہ نہیں لے سکتی، تاہم ٹیکنالوجی مستقبل میں استاد کے کردار کو ضرور تبدیل کرے گی۔ مستقبل کا استاد محض معلومات فراہم کرنے والا نہیں بلکہ رہنما، سوال اٹھانے والا اور طلبہ میں تجسس و کردار سازی پیدا کرنے والا ہوگا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ زندگی بھر سیکھنے کا جذبہ برقرار رکھیں، مختلف شعبوں کے درمیان روابط قائم کریں، قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، تعلیم کے ساتھ کھیلوں کو بھی اہمیت دیں اور اپنی روایات و اقدار سے جڑے رہیں۔
انہوں نے نوجوانوں سے بڑے خواب دیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو معاشرے اور ملک کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نسل مصنوعی ذہانت کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے اور اس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسا مستقبل تشکیل دے جس میں انسانیت کی ترقی اور بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر