
کولمبو، 22 ستمبر (ہ س): سری لنکا کی حکومت نے امپارا ضلع میں انسان اور ہاتھی کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں زیادہ خطرے والے علاقوں میں ہاتھیوں کو قابو کرنے والے 14 نئے یونٹس کا قیام شامل ہے۔ یہ فیصلے 20 ستمبر کو ماحولیات کے وزیر ڈاکٹر ڈامیکا پٹابینڈی کی صدارت میں منعقدہ 'امپارا ڈسٹرکٹ ہیومن-ایلیفنٹ کنفلکٹ مینجمنٹ کمیٹی' کے ایک خصوصی اجلاس کے دوران کیے گئے۔ ان 14 یونٹس کے قیام کا ابتدائی مرحلہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔
'دی مرر' اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق، ماحولیات کے وزیر ڈاکٹر ڈامیکا پٹابینڈی نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان اقدامات پر عمل درآمد میں تیزی لائیں۔
اجلاس میں کچرے سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبے کے آغاز پر بھی بات چیت کی گئی۔ یہ منصوبہ 'اڈالائچنائی' کے کوڑے کے ڈھیر سے وابستہ ماحولیاتی مسائل کا طویل مدتی حل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ جگہ جنگلی ہاتھیوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔
انسانی اور مادی وسائل میں اضافہ کر کے زمینی سطح پر کارروائیوں کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے، محکمہ تحفظِ جنگلی حیاتیات کی معاونت کے لیے سول سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے 1,463 اہلکاروں اور ملٹی پرپز ڈیولپمنٹ ٹاسک فورس کے 552 افسران کو تعینات کیا گیا ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کو 38 موٹر سائیکلیں اور دو ڈبل کیب گاڑیاں بھی موصول ہوئی ہیں۔ اگلے دو ہفتوں کے دوران وائلڈ لائف دفاتر کو مزید نو سنگل کیب گاڑیاں فراہم کرنے کے منصوبے بھی تیار ہیں۔
کمیٹی نے گاؤں کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا جو اس تصادم کے انتظام میں عوامی شرکت کو بڑھانے کے لیے ماہانہ اجلاس کریں گی۔ یہ کمیٹیاں بجلی کی باڑ اور حال ہی میں نصب کیے گئے اسپرنگ گیٹس کی دیکھ بھال میں مدد کریں گی۔ اسکے علاوہ جنگلاتی علاقوں میں مویشیوں کے غیر مجاز داخلے کو روکنے اور محفوظ علاقوں سے موجودہ مویشیوں کے ریوڑ کو ہٹانے کے لیے قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد