وندے ماترم سے متعلق عرضی پر مرکز کو سپریم کورٹ کا نوٹس
نئی دہلی، 22 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے منگل کو قومی وقار کی توہین کی روک تھام سے متعلق ترمیمی قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ سماعت کے دوران، عدالت نے کہا کہ جو شخص ’وندے ماترم‘ کے تمام
SC-Notice-CentGovt-Vande-Mataram


نئی دہلی، 22 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے منگل کو قومی وقار کی توہین کی روک تھام سے متعلق ترمیمی قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ سماعت کے دوران، عدالت نے کہا کہ جو شخص ’وندے ماترم‘ کے تمام بند نہیں گاتا، اس کے خلاف فوجداری کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے مرکزی حکومت کو دو ہفتے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

اس ترمیم کے تحت ’وندے ماترم‘ گانے سے جان بوجھ کر روکنا یا اسے گاتے وقت کسی اجتماع میں خلل ڈالنا قابل سزا جرم ہے، جس کے لیے تین سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔ یہ عرضی کرناٹک موسیقی کے گلوکار ٹی ایم کرشنا نے دائر کی ہے۔ عرضی میں قومی وقار کی توہین کی روک تھام سے متعلق ترمیمی قانون کی دفعہ 3 کو چیلنج کیا گیا ہے۔

عرضی میں وزارت داخلہ کی ان ہدایات کو بھی چیلنج کیا گیا ہے، جن کے تحت بعض سرکاری، رسمی اور ثقافتی مواقع پر ’وندے ماترم‘ کے مکمل چھ بندوں والے ورژن کو گانا ضروری قرار دیا گیا تھا۔ ترمیم کے بعد جان بوجھ کر قومی گیت گانے سے روکنا یا ایسے گیت کے گانے والے اجتماع میں خلل ڈالنا قابل سزا جرم ہے، جس کے لیے تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کی ہدایات پروٹوکول کو منظم کرنے کی حدود سے آگے بڑھ جاتی ہیں اور یہ ترمیم دراصل شہریوں کو آخری چار بند گانے میں شامل ہونے پر مجبور کرتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande