
بھونیشور، 22 ستمبر (ہ س)۔ اڈیشہ کی 17ویں اسمبلی کا ساتواں اجلاس آج سے شروع ہوگا اور 3 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ مختصر مدتی اس مانسون اجلاس میں اپوزیشن نے ریاست سے متعلق کئی مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری کی ہے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق اجلاس میں کل نو کاروباری دن ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایک تعطیل اور دو ’نو میٹنگ ڈے‘ ہوں گے۔ اجلاس کے دوران تقریباً چھ بل ایوان میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
اجلاس شروع ہونے سے قبل اسمبلی اسپیکر سرما پادھی نے پیر کو کل جماعتی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں اسمبلی کی کارروائی کو ہموار اور منظم انداز میں چلانے کے لیے تمام جماعتوں سے تعاون کی اپیل کی گئی۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی، نائب وزیر اعلیٰ کنک وردھن سنگھ دیو، ڈپٹی اسپیکر بھوانی شنکر بھوئی، اپوزیشن کے نائب رہنما پرسنا آچاریہ، اپوزیشن کی چیف وہپ پرمیلا ملک، کانگریس قانون ساز پارٹی کے نائب رہنما اشوک داس سمیت مختلف جماعتوں کے سینئر رہنما شریک ہوئے۔
کل جماعتی اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کے دوران مختلف مسائل پر حکومت سے جواب طلب کرنے کی تیاری کی ہے۔ اجلاس کی مدت محدود ہونے کے باعث کئی اہم مسائل پر ایوان میں تیز بحث ہونے کا امکان ہے۔ اجلاس کے دوران معدنیات اور معدنیات (ترقی و ضابطہ) ترمیمی ایکٹ، 2026 اہم موضوعات میں شامل رہنے کا امکان ہے۔
اڈیشہ اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنما اور بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے صدر نوین پٹنائک نے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی سے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے اور معدنیات ترمیمی ایکٹ، 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر متفقہ قرارداد منظور کرنے کی اپیل کی تھی۔
پٹنائک کا مؤقف ہے کہ یہ ترمیم معدنی وسائل سے متعلق ٹیکس عائد کرنے کے معاملے میں اڈیشہ کے آئینی حقوق کو متاثر کرتی ہے۔ اس مسئلے پر اپوزیشن کے مطالبے کے باعث ریاست کے معدنی وسائل اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کو لے کر سیاسی بحث تیز ہونے کا امکان ہے۔
معدنیات ترمیمی قانون کے علاوہ اپوزیشن جماعتیں اسکول کی نصابی کتابوں میں مبینہ غلطیوں سمیت کئی دیگر مسائل بھی ایوان میں اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اپوزیشن ان معاملات پر حکومت سے وضاحت طلب کر سکتی ہے۔ محدود کاروباری دنوں والے اس اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مختلف قانون سازی اور عوامی مفاد سے متعلق مسائل پر بحث ہونے کا امکان ہے۔ اپوزیشن جہاں مختلف معاملات پر حکومت سے جواب طلب کرے گی، وہیں حکومت بھی ایوان کے سامنے اپنا موقف پیش کرے گی۔
مانسون اجلاس 3 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد