نصف شب پھر ایکشن میں نظر آئے وزیر خزانہ، چار مال بردار گاڑیاں پکڑی گئیں
پلامو، 22 ستمبر (ہ س)۔ غیر قانونی کاروبار اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سرکاری محصولات کے نقصان کے معاملے پر ریاست کے وزیر خزانہ رادھا کرشن کشور نے پیر کی نصف شب چھترپور میں اچانک سڑک پر اتر کر گاڑیوں کی جانچ مہم چلائی۔ وزیر کے اچانک سڑک پر اترنے
JH-MINISTER-CONDUCTED-VEHICLE-INSPECTION-DRIVE-


پلامو، 22 ستمبر (ہ س)۔ غیر قانونی کاروبار اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سرکاری محصولات کے نقصان کے معاملے پر ریاست کے وزیر خزانہ رادھا کرشن کشور نے پیر کی نصف شب چھترپور میں اچانک سڑک پر اتر کر گاڑیوں کی جانچ مہم چلائی۔

وزیر کے اچانک سڑک پر اترنے کی خبر ملتے ہی مقامی سطح پر کھلبلی مچ گئی۔ انہوں نے سڑما میں واقع مہندرا ایگرو پیٹرول پمپ کے قریب این ایچ-139 پر بہار اور اتر پردیش کی جانب جانے والی بھاری مال بردار گاڑیوں کو رکوا کر ان کی جانچ کرائی۔ اس دوران چار گاڑیوں کو پکڑ کر مزید کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ پکڑی گئی گاڑیوں میں ایک ٹرک پر لکڑی، دوسرے پر گٹی، تیسرے پر کوئلہ اور چوتھی گاڑی پر لوہے کا اسکریپ لدا ہوا تھا۔ گاڑیوں سے متعلق کاغذات اور سامان کی قانونی حیثیت کی جانچ کے بعد مزید کارروائی کا عمل شروع کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق وزیر خزانہ کا قافلہ پیر کی رات تقریباً 11 بجے چھترپور پہنچا۔ اس کے بعد بغیر کسی پیشگی اطلاع کے این ایچ-139 پر گاڑیوں کی جانچ شروع کر دی گئی۔ وزیر کی اچانک کارروائی کی خبر پھیلتے ہی متعلقہ کاروباری افراد میں بھی کھلبلی مچ گئی۔ کارروائی کے دوران پولیس اہلکار اور سکیورٹی فورسز بھی موجود تھیں۔

وزیر خزانہ کے ساتھ جوائنٹ کمشنر کمرشیل ٹیکس منوج کمار، اسٹیٹ ٹیکس افسر کیرتی وردھن اور اسٹیٹ ٹیکس افسر ویر سنگھ ہورو بھی موجود تھے۔ وزیر خزانہ کے اس اقدام کی اس لیے بھی بحث ہو رہی ہے کہ غیر قانونی کان کنی اور نقل و حمل کے خلاف کارروائی کے لیے انتظامی سطح پر مختلف محکمے اور ٹاسک فورس پہلے سے موجود ہیں۔ اس کے باوجود وزیر کا خود رات میں سڑک پر اتر کر مال بردار گاڑیوں کی جانچ کرنا انتظامی نظام کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔

چھترپور سب ڈویژن کے بہار سرحدی علاقے میں غیر قانونی کان کنی اور معدنیات کی نقل و حمل کو لے کر طویل عرصے سے شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ وزیر خزانہ اس سے قبل بھی چھترپور علاقے میں رات کے وقت غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی کر چکے ہیں۔ جون 2026 میں دیوبند پہاڑ علاقے میں ان کی قیادت میں کی گئی کارروائی میں چار ہائیوا اور ایک پوکلین ضبط کیے جانے کی رپورٹ بھی سامنے آئی تھی۔ پیر کی رات کی کارروائی کو اسی مہم کی اگلی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم پکڑی گئی گاڑیوں کے خلاف حتمی کارروائی متعلقہ محکموں کی جانب سے جانچ اور دستاویزات کی تصدیق کے بعد ہی واضح ہوگی۔

اس سلسلے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ بڑی تعداد میں گاڑیاں غیر قانونی کوئلہ لے کر بہار اور اتر پردیش کی جانب جاتی ہیں۔ اسی اطلاع کی بنیاد پر انہوں نے خود کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محصولات کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی غیر قانونی کاروبار کو ان کے رہتے ہوئے چلنے نہیں دیا جائے گا اور عوام اور حکومت کے پیسے کو لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ آنے والے دنوں میں بھی اس طرح کی کارروائی جاری رہے گی۔

بتایا گیا کہ وزیر خزانہ اپنے پرسنل اسسٹنٹ سنیل کمار دوبے اور محافظوں کے ساتھ چھترپور پہنچے تھے۔ خاص بات یہ رہی کہ دن بھر کے مصروف پروگرام کے باوجود انہوں نے دیر رات سڑک پر اتر کر کارروائی کی۔ مقامی لوگوں میں وزیر کی اس کارروائی کی دیر رات تک بحث ہوتی رہی۔

وزیر خزانہ اس سے قبل بھی افسران کی کارکردگی کے حوالے سے اچانک معائنے اور کارروائی کی ہدایات دیتے رہے ہیں۔ جون 2026 میں چھترپور زونل دفتر کے اچانک معائنے کے دوران بھی انہوں نے افسران کو عوامی مسائل کے فوری حل کی ہدایت دی تھی۔

بتایا گیا کہ وزیر خزانہ اتوار کو دہلی کے بھارت منڈپم میں مرکزی وزیر خزانہ کے ساتھ اجلاس میں شرکت کرکے واپس آئے تھے۔ پیر کو رانچی میں مختلف کام نمٹانے کے بعد انہوں نے چانھو اور بیجوپاڑہ میں منعقدہ پروگراموں میں شرکت کی۔ اس کے بعد دیر شام پلامو کے صدر مقام میدنی نگر پہنچے۔ دن بھر کے مصروف پروگرام کے باوجود دیر رات چھترپور پہنچ کر گاڑیوں کی جانچ مہم چلانا موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande