فٹ پاتھ دکانداروں کو ہٹانے کی مخالفت، دو ماہ کی مہلت دینے پر اتفاق
مشرقی سنگھ بھوم، 22 ستمبر (ہ س)۔ منی فیٹ ٹی او پی چوک اور برما مائنز ٹیوب گیٹ کے آس پاس برسوں سے دکانیں لگا کر اپنے خاندان کا پیٹ پالنے والے فٹ پاتھ دکانداروں کو ہٹانے پہنچی ٹاٹا اسٹیل کے لینڈ ڈپارٹمنٹ کی ٹیم کو منگل کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ
JH-MANIFIT-FOOTPATH-VEGETABLE-


مشرقی سنگھ بھوم، 22 ستمبر (ہ س)۔ منی فیٹ ٹی او پی چوک اور برما مائنز ٹیوب گیٹ کے آس پاس برسوں سے دکانیں لگا کر اپنے خاندان کا پیٹ پالنے والے فٹ پاتھ دکانداروں کو ہٹانے پہنچی ٹاٹا اسٹیل کے لینڈ ڈپارٹمنٹ کی ٹیم کو منگل کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کارروائی کے خلاف 50 سے زائد چھوٹے دکاندار سڑک پر اتر آئے اور بانس کے ذریعے گاڑیوں کی آمد و رفت روک دی۔ بعد میں سماجی کارکن اور مزدور رہنما بنٹی سنگھ اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچے اور دکانداروں کی حمایت میں احتجاج کیا۔ اس دوران سڑک جام ہونے سے بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر رہی۔

اطلاعات کے مطابق برما مائنز ٹیوب گیٹ کے سامنے سے دکانداروں کو ہٹانے کا عمل گزشتہ کچھ عرصے سے جاری ہے۔ کمپنی کی جانب سے دکانداروں کو جیمکو سے منی فیٹ جانے والی سڑک پر دکانیں لگانے کے لیے جگہ فراہم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ تاہم دکانداروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ مقام سڑک کے بالکل کنارے ہے، جہاں دکانیں لگانے سے سڑک حادثات کا خطرہ برقرار رہے گا۔ دکانداروں نے ڈی وی سی کے قریب متبادل جگہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

احتجاج اور سڑک جام کی اطلاع ملنے کے بعد انتظامیہ کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ کمپنی انتظامیہ کی جانب سے سنیل سنگھ کے علاوہ برما مائنز، ٹیلکو اور گووندپور تھانوں کے انچارج بھی موقع پر پہنچے۔ اس کے بعد پولیس انتظامیہ، کمپنی انتظامیہ اور دکانداروں کے نمائندوں کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوئے۔ دکانداروں کی جانب سے مزدور رہنما بنٹی سنگھ اور اے جے ایس یو رہنما اپّو تیواری نے اپنا موقف پیش کیا۔

مذاکرات میں فی الحال دکانداروں کو دو ماہ کی مہلت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اس مدت کے دوران ان کی بازآبادکاری کے لیے مناسب متبادل مقام طے کرنے پر بات چیت کی جائے گی۔ بنٹی سنگھ نے کہا کہ برسوں سے دکانیں لگا کر اپنے خاندان کا گزر بسر کرنے والے چھوٹے دکانداروں کو متبادل انتظام کے بغیر ہٹانا مناسب نہیں ہے۔ کمپنی کو پہلے دکانداروں کے لیے محفوظ، منظم اور باعزت جگہ فراہم کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دو دن کے اندر اس معاملے پر دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔ اگر دکانداروں کے لیے مناسب انتظام نہیں کیا گیا تو مرحلہ وار تحریک چلائی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر کمپنی کے مرکزی دروازے کو بھی جام کرنے کی وارننگ دی گئی ہے۔

احتجاج اور مذاکرات کے دوران بنٹی سنگھ، اپّو تیواری، منّا چوبے، چنٹو سنگھ، ہریتک چوبے، سَویتا سنگھ، لاڈی سنگھ، شانتی دیوی اور پنکی سنگھ سمیت دیگر افراد موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande