
نئی دہلی، 22 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستان اور پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) نے منگل کو تیل کے بازار میں استحکام برقرار رکھنے اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، نئی دہلی میں منعقدہ ساتویں ہندوستان-اوپیک توانائی مذاکرات کی مشترکہ صدارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری اور اوپیک کےسکریٹری جنرل ہیثم الغیص نے کی۔ وزارت کے مطابق دونوں فریقوں نے تیل کی منڈی کے قلیل، وسط اور طویل مدتی امکانات کا جائزہ لیا اور عالمی توانائی کی مانگ میں ہندوستانی کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔ دونوں فریقوں نے اگلے سال ویانا میں آٹھویں اعلیٰ سطحی توانائی مذاکرات منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جہاں اوپیک کا صدر دفتر واقع ہے۔ تاہم اجلاس کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔
ہردیپ سنگھ پوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہندوستان آنے والی دہائیوں میں بھی عالمی توانائی کی مانگ میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا، ”توانائی پیدا کرنے والے ممالک اور صارفین کے درمیان مسلسل مذاکرات سرمایہ کاری کو فروغ دینے، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور توانائی کی قابل اعتماد فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔“
وہیں، اوپیک کے سکریٹری جنرل الغیص نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کے ساتھ بات چیت تنظیم کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ موجودہ عالمی توانائی کے منظرنامے میں ہندوستان کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور تیل کی منڈی میں اتار چڑھاو¿ برقرار ہے۔ اجلاس میں دونوں فریقوں نے مستقبل میں توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے توانائی کے شعبے میں بروقت سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان-اوپیک توانائی مذاکرات کا آغاز 2015 میں نئی دہلی میں ہوا تھا۔ اس وقت سے ہر سال وزارتی سطح پر اس اجلاس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ اوپیک اور دنیا کے تیسرے سب سے بڑے تیل صارف اور درآمد کنندہ ملک بھارت کے درمیان باہمی تعاون اور تال میل کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا 88 فیصد سے زیادہ حصہ درآمد کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد