نائب صدر آج بھارت منڈپم میں نویں بھارت بین الاقوامی آبی ہفتہ کا افتتاح کریں گے
نئی دہلی، 22 ستمبر (ہ س)۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن آج یہاں بھارت منڈپم میں پانچ روزہ نویں بھارت بین الاقوامی آبی ہفتہ کا افتتاح کریں گے۔ یہ عالمی پروگرام موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز کے درمیان آبی تحفظ اور پانی کے بہتر انتظام کو مزید
نائب صدر آج بھارت منڈپم میں نویں بھارت بین الاقوامی آبی ہفتہ کا افتتاح کریں گے


نئی دہلی، 22 ستمبر (ہ س)۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن آج یہاں بھارت منڈپم میں پانچ روزہ نویں بھارت بین الاقوامی آبی ہفتہ کا افتتاح کریں گے۔ یہ عالمی پروگرام موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز کے درمیان آبی تحفظ اور پانی کے بہتر انتظام کو مزید مؤثر بنانے پر مرکوز ہے۔ اس دوران موسمیاتی موافق آبی انتظام، آبی وسائل کے پائیدار استعمال، ٹیکنالوجی، مالی تعاون اور عوامی شراکت داری کے ذریعے آبی تحفظ کو مضبوط بنانے پر غور و خوض کیا جائے گا۔

نویں بھارت بین الاقوامی آبی ہفتہ کا انعقاد مرکزی وزارتِ جل شکتی کے زیر اہتمام مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، تحقیقی و تعلیمی اداروں، صنعتی تنظیموں، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر مرکزی وزیرِ جل شکتی سمیت دیگر معزز شخصیات بھی موجود رہیں گی۔

اس سال بھارت بین الاقوامی آبی ہفتہ کا موضوع 'موسمیاتی موافق آبی انتظام' رکھا گیا ہے۔ اس پروگرام میں پالیسی سازوں، عالمی آبی شعبے کے ماہرین، محققین، آبی انتظام سے وابستہ پیشہ ور افراد، صنعتی نمائندوں، سول سوسائٹی، اسٹارٹ اپس اور نوجوانوں کو تبادلۂ خیال اور تجربات شیئر کرنے کا پلیٹ فارم ملے گا۔ نیدرلینڈز اور جرمنی اس پروگرام کے شراکت دار ممالک ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کی 14 ریاستیں شراکت دار ریاستوں کے طور پر حصہ لیں گی۔ چھ مرکزی وزارتوں اور محکموں کو بھی شراکت دار وزارتوں اور محکموں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

نویں بھارت بین الاقوامی آبی ہفتہ کے دوران 10 اہم پلیٹ فارمز پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ ان میں وزارتی مکمل اجلاس، عالمی آبی رہنماؤں کے مکمل اجلاس، ملک خصوصی اجلاس، آبی رہنماؤں کا فورم، آبی شعبے کے ماہرین کا فورم، موضوعاتی فورم، اسٹارٹ اپ فورم، یوتھ فورم، صنعتی فورم اور مختلف ضمنی پروگرام شامل ہیں۔

بحث کے لیے سات اہم ذیلی موضوعات طے کیے گئے ہیں۔ ان میں جامع اور مساوی آبی حکمرانی، آبی وسائل کے بہتر استعمال کے لیے تعاون، آبی تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی اور سماج کا کردار، پانی اور موسمیاتی خطرات، آبی بنیادی ڈھانچے کے لیے جدید مالیاتی ماڈل اور جدید کاری، پائیدار آبی وسائل کا انتظام اور عوام و ماحول کے لیے پانی شامل ہیں۔

22 سے 25 ستمبر تک چار روزہ بین الاقوامی نمائش بھی منعقد کی جائے گی۔ اس میں پائیدار اور موسمیاتی موافق آبی انتظام سے متعلق نئی ٹیکنالوجیز، مصنوعات اور حل پیش کیے جائیں گے۔

اس دوران محکمۂ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی جانب سے 22 سے 24 ستمبر تک دوسرا بین الاقوامی واش کانفرنس بھی منعقد کیا جائے گا۔ اس میں پینے کے پانی کی دستیابی، صفائی کے بنیادی ڈھانچے، صفائی سے متعلق رویوں اور عوامی صحت کے مسائل پر تبادلۂ خیال ہوگا۔ کانفرنس میں بڑے پیمانے پر نافذ کیے جا سکنے والے، کم لاگت اور پائیدار حل پر زور دیا جائے گا۔

اس پروگرام کا مقصد صرف خیالات کے تبادلے تک محدود رہنے کے بجائے انہیں قابلِ عمل تجاویز، شراکت داریوں اور بڑے پیمانے پر اپنائے جانے والے حل میں تبدیل کرنا ہے۔

اس کے تحت پالیسی، مالیات، ٹیکنالوجی اور عوامی شراکت داری کو یکجا کرکے آبی تحفظ اور موسمیاتی موافقت کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ اختتامی اجلاس 25 ستمبر کو ہوگا، جبکہ 26 ستمبر کو مطالعاتی دورے منعقد کیے جائیں گے۔

بھارت بین الاقوامی آبی ہفتہ کو آبی شعبے میں بھارت اور دنیا کے مختلف فریقوں کے درمیان تجربات کے تبادلے، نئی ٹیکنالوجیز کو متعارف کرانے اور تعاون کو فروغ دینے کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر فروغ دیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande