تلنگانہ میں 31 لاکھ ووٹرس سماعت کیلئے دفاتر پہنچے
تلنگانہ میں 31 لاکھ ووٹرس سماعت کیلئے دفاتر پہنچےحیدرآباد، 22 ستمبر(ہ س)۔ ریاست میں ووٹر فہرستوں کی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) کے تحت ڈرافٹ ووٹر لسٹ کو بہتر بنانے کا عمل جاری ہے لیکن نوٹس کے جواب میں ووٹرس کی عدم دلچسپی نے انتخابی حکام کی جانب سے ف
تلنگانہ میں 31لاکھ ووٹرس سماعت کیلئے دفاتر پہونچے


تلنگانہ میں 31 لاکھ ووٹرس سماعت کیلئے دفاتر پہنچےحیدرآباد، 22 ستمبر(ہ س)۔ ریاست میں ووٹر فہرستوں کی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) کے تحت ڈرافٹ ووٹر لسٹ کو بہتر بنانے کا عمل جاری ہے لیکن نوٹس کے جواب میں ووٹرس کی عدم دلچسپی نے انتخابی حکام کی جانب سے فیلڈ لیول پر بلاک لیول آفیسرس کے ذریعہ ریاست بھر میں جملہ 92.88 لاکھ ووٹرس کونوٹسیں جاری کی گئی ہیں، تاہم حیران کن طور پران میں سے ایک تہائی ووٹرس نے بھی اب تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ جاری کردہ نوٹس کی سماعت کے دوران اب تک صرف 31لاکھ ووٹرس نے انکوائری سنٹرس میں شرکت کی اوراپنے ضروری دستاویزات جمع کرائے ہیں۔ ان میں سے 22لاکھ ووٹرس کی تمام تفصیلات اور دستاویزات درست پائے جانے پرانہیں عہدیداروں نے اہل قراردیا ہے۔ 9لاکھ ووٹرس کے دستاویزات میں غلطیوں یا وضاحت کی کمی کی وجہ سے انہیں اضآفی ثبوت جمع کرانے کاموقع دیاگیاہے۔ 60لاکھ سے زائد ووٹرس اب تک بھی سماعت کیلئے تفتیشی مراکزنہیں پہنچے، جس کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں نوٹس کی چھان بین زیرالتواء کا شکارہے۔ مسودہ ووٹر لسٹ میں غلطیوں 2002 کے ایس آئی آر ریکارڈ سے میاپنگ نہ ہونے اورعمر، والد کے نام یا خاندانی تعلق کی تفصیلات میں فرق کی وجہ سے یہ نوٹسیں جاری کئے گئے تھے جن کی تصدیق ایف آراوز کے سامنے ہونی ہے، تاہم اپنے کام کے دباؤ یادوری کی وجہ سے اکثر ووٹرس مراکزپرآنے سے قاصرہیں۔ووٹرس کی سہولت کیلئے چیف الکٹورل آفیسر نے قوانین میں نرمی کا اعلان کیا ہے کہ نوٹس موصول ہونے والے افراد کا خود سماعت کیلئے پہنچنا ضروری نہیں ہے بلکہ خاندان کا کوئی بھی بالغ فرد ضروری دستاویزات کے ساتھ ای آراوکے پاس جاکر وضاحت فراہم کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی نمائندے کے ذریعہ دستاویزات بھیجنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ مناسب وقت اور قوانین میں نرمی کے باوجود ردعمل بہت کم ملنے پر عہدیدار اب ووٹرس سے فون نمبرس کے ذریعہ خود رابطہ کررہے ہیں۔ بی ایل اوز گھر گھر پہنچ کر لوگوں کو آگاہ کررہے ہیں کہ وہ نوٹس کا سبب جان کر متعلقہ دستاویزات جمع کرائیں تاکہ ان کا حق رائے دہی منسوخ نہ ہوجائے ۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande