
نئی دہلی، 21 ستمبر (ہ س)۔ ہندوستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 27 ستمبر سے شروع ہونے والی تین میچوں کی ایک روزہ سیریز آئندہ سال ہونے والے مردوں کے آئی سی سی کرکٹ عالمی کپ 2027 کی تیاریوں کے لحاظ سے اہم ہوگی۔ اسی سیریز کے ساتھ ہندوستان کے گھریلو سیزن کا بھی آغاز ہوگا۔
سیریز سے قبل ویسٹ انڈیز کے آل راو¿نڈر جیسن ہولڈر نے جیو اسٹار سے گفتگو میں بھارتی کپتان شبھمن گل، وراٹ کوہلی، روہت شرما اور تیز گیند باز گرنور برار کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔
شبھمن گل کی قیادت میں کھیلنے کے تجربے کے بارے میں ہولڈر نے کہا، ”میں نے شبھمن کی قیادت میں کھیلا ہے۔ وہ ایک لیڈر ہیں۔ وہ بہت زیادہ بولنے والے شخص نہیں ہیں، لیکن جب بولتے ہیں تو ان کی بات بالکل واضح ہوتی ہے اور وہ پوری وضاحت کے ساتھ بتاتے ہیں کہ وہ ٹیم سے کیا چاہتے ہیں۔ وہ ایک طرح کا سکون اور توازن لے کر آتے ہیں، جو ایک کپتان کے لیے اچھی خوبی ہے۔ میں ان کی ان خوبیوں کا بہت احترام کرتا ہوں اور جب میں نے ان کی قیادت میں کھیلا تو مجھے یہ بہت پسند آیا۔“
انہوں نے کہا، ”وہ بطور کپتان ابھی اپنے دور کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور یقیناً میدان پر سیکھ رہے ہیں۔ وہ اپنے کھلاڑیوں سے کافی توقعات رکھیں گے۔ ان کے سینئر کھلاڑیوں کو ان کے پاس آکر ان کی مدد کرنی ہوگی۔ ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے، جہاں شائی کچھ عرصے سے اس کردار میں ہیں، لیکن وہ بھی مسلسل سیکھ رہے ہیں۔ ایک لیڈر اور کھلاڑی کے طور پر سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ آپ ہمیشہ بہتر بننے کے لیے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شبھمن بھی اس سے مختلف نہیں ہیں۔ میں انہیں دیکھنے اور ان کے خلاف کھیلنے کے لیے پرجوش ہوں اور امید ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان اچھا مقابلہ ہوگا۔“
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا شبھمن گیند بازوں کے کپتان ہیں، ہولڈر نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ گیند بازوں کے کپتان اور بلے بازوں کے کپتان میں کس طرح فرق کیا جائے، لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ گیند بازوں اور بلے بازوں دونوں کے ساتھ یکساں طور پر پ±رسکون اور تعاون کرنے والے ہیں۔ میں انہیں بتاتا تھا کہ میں کیا چاہتا ہوں اور ہم اس پر بات چیت کرتے تھے۔ خاص طور پر فیلڈنگ ترتیب دینے کے معاملے میں انہوں نے مجھے اپنی طرز پر فیلڈنگ کرنے اور اپنی حکمت عملی نافذ کرنے کی مکمل آزادی دی۔ یہ ایک کپتان کی مضبوط خوبی ہے۔“
انہوں نے کہا، ”مجھے شبھمن کے ساتھ کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے مجھے اپنی فیلڈ ترتیب دینے اور اپنی حکمت عملی نافذ کرنے کی مکمل آزادی دی۔ ہمارے درمیان ہمیشہ کھلی بات چیت اور باہمی سمجھ رہی۔ مجھے ان کے ساتھ کھیلنا بہت پسند آیا اور امید ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی ہم ساتھ کھیلتے رہیں گے۔“
وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے بارے میں ہولڈر نے کہا، ”جب آپ وراٹ کو دیکھتے ہیں تو وہ ممکنہ طور پر اس کھیل کے اب تک کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک اور بہترین ایک روزہ بلے باز ہیں۔ وہ کھیل کے بہترین بلے بازوں میں بھی شامل ہیں۔ روہت کی بات کریں تو ان کا ایک روزہ ریکارڈ شاندار ہے، خاص طور پر ویسٹ انڈیز کے خلاف انہوں نے بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس لیے ہندوستانی کرکٹ اور عالمی کرکٹ کے یہ دونوں عظیم کھلاڑی بہت بڑا اثر رکھتے ہیں۔“
ہولڈر نے کہا، ”مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے پاس ان کے مقابلے کا کوئی کھلاڑی ہے۔ ہمارے بہترین بلے باز اور عظیم ترین کھلاڑی شائی ہوپ ہیں، جنہوں نے اپنے لیے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ میں انہیں بھی اسی زمرے میں رکھوں گا۔ یہ تینوں عالمی معیار کے کھلاڑی ہیں اور ان کے ریکارڈ بھی عالمی معیار کے ہیں۔ میں تینوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے دیکھنے کے لیے پرجوش ہوں۔ جب بھی میرا سامنا وراٹ سے ہوتا ہے تو مقابلہ خاص ہوتا ہے۔ مجھے روہت کے خلاف کھیلنا بھی پسند ہے، کیونکہ میں انہیں ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر دیکھتا ہوں اور بڑے کھلاڑیوں کے خلاف چیلنج قبول کرنا پسند کرتا ہوں۔“
گجرات ٹائٹنز میں گرنور برار کو قریب سے دیکھنے کے تجربے کے بارے میں ہولڈر نے کہا، ”اس میں کئی شاندار خوبیاں ہیں۔ جب میں نے پہلی بار اسے دوڑ کر گیند بازی کرتے دیکھا تو میں نے آشیش سے خاموشی سے پوچھا تھا کہ یہ کھلاڑی کھیل کیوں نہیں رہا؟ اس کی ترقی دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے اور یہ بھی خوش آئند ہے کہ اسے بھارت کے لیے کھیلنے کا موقع ملا۔“
انہوں نے کہا، ”اس کا قد ایک ایسی خوبی ہے جس کی وجہ سے وہ اضافی باونس حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے پاس رفتار ہے اور وہ گیند کو سوئنگ یا موو بھی کرا سکتا ہے، جو آج کے دور میں اہم ہے۔ رفتار یقیناً کرکٹ میں اب بھی ایک بڑا ہتھیار ہے، لیکن اس کے ساتھ مہارت بھی ضروری ہے۔ گرنور کے پاس رفتار کے ساتھ مہارت بھی ہے۔ تیز گیند باز کے لیے یہ مضبوط خوبیاں ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ ہمارے لیے ایک چیلنج ثابت ہوگا۔“
ہولڈر نے مزید کہا، ”نیٹس میں اس کا سامنا کرنا اور اسے گیند بازی کرتے دیکھنا کافی دلچسپ تھا۔ میں اسے نہ صرف ہمارے خلاف کھیلتے دیکھنے بلکہ ایک شاندار اور طویل کیریئر بناتے دیکھنے کے لیے بھی پرجوش ہوں۔“
ہندوستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین میچوں کی ایک روزہ سیریز 27 ستمبر سے 3 اکتوبر تک کھیلی جائے گی۔ تمام میچوں کی براہ راست نشریات دوپہر 2 بجے سے جیو ہاٹ اسٹار اور اسٹار اسپورٹس نیٹ ورک پر کی جائیں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد