منگلورو ریلوے زون اب جنوب مغربی ریلوے کے میسور ڈویژن کے ماتحت ہوگا: ویشنو
نئی دہلی، 21 ستمبر (ہ س)۔ وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے پیر کو کہا کہ منگلورو کے ریلوے زون کو آپریشن سے متعلق مسائل دور کرنے کے لیے جنوب مغربی ریلوے (ایس ڈبلیو آر) کے میسور ڈویژن کے ماتحت رکھا جائے گا۔ اس سے قبل یہ علاقہ تین مختلف ریلوے-جنوب ریلوے، جنو
KERALAM-RAILWAY-MANGALURU


نئی دہلی، 21 ستمبر (ہ س)۔ وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے پیر کو کہا کہ منگلورو کے ریلوے زون کو آپریشن سے متعلق مسائل دور کرنے کے لیے جنوب مغربی ریلوے (ایس ڈبلیو آر) کے میسور ڈویژن کے ماتحت رکھا جائے گا۔ اس سے قبل یہ علاقہ تین مختلف ریلوے-جنوب ریلوے، جنوب مغربی ریلوے اور کونکن ریلوے کارپوریشن لمیٹڈ (کے آر سی ایل)-کے آپریشنل زون میں تقسیم تھا، جس کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت میں غیر ضروری تاخیر اور تال میل سے متعلق مسائل پیدا ہوتے تھے۔

کیرلم کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ میٹنگ کے بعد ویشنو نے کہا کہ منگلورو کے ریلوے زون کو ایک ہی آپریشنل زون کے تحت لانے سے مختلف زون کے درمیان انٹرچینج سے متعلق مسائل ختم ہوں گے اور ٹرینوں کی آمدورفت زیادہ ہموار اور مو¿ثر ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ کیرلم میں ریلوے کی ترقی کے لیے مختص رقم 2014 میں 372 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2026-27 میں 3,795 کروڑ روپے ہوگئی ہے۔ ریلوے کے مطابق، 2026-27 میں کیرلم کے لیے مختص رقم 2009-14 کے دوران 372 کروڑ روپے کی اوسط سالانہ رقم سے 10 گنا سے بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بڑھنے والی سرمایہ کاری کے اثرات زمینی سطح پر بھی نظر آ رہے ہیں۔ اس عرصے میں کیرلم میں چھ بڑی ڈبلنگ/گیج تبدیلی کی اسکیمیں مکمل کی گئی ہیں، جن کی مجموعی لمبائی 670 کلومیٹر ہے۔ اس کے علاوہ 131 فلائی اوور اور انڈر پاس تعمیر کیے گئے ہیں اور ریاست کے ریلوے نیٹ ورک کی 100 فیصد برقی کاری مکمل ہوچکی ہے۔

ویشنو نے کہا کہ کیرلم میں 20 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے ریلوے منصوبے اس وقت عمل درآمد کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ان میں نو ملٹی ٹریکنگ/نئی ریلوے لائن کے منصوبے، 145 فلائی اوور اور انڈر پاس اور 19 اسٹیشنوں کی ازسرنو تعمیر شامل ہے۔

وزیر ریلوے نے بتایا کہ کیرلم میں ریلوے کی گنجائش بڑھانے کے لیے چھ ریلوے سیکشنز میں تیسری اور چوتھی لائن کی تعمیر کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کرنے کی غرض سے سروے جاری ہے۔ ان سیکشن کی مجموعی لمبائی 800 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ ان میں شورنور-کوئمبٹور (99 کلومیٹر)، منگلورو-شورنور (307 کلومیٹر)، شورنور-ایرناکولم (106 کلومیٹر)، ایرناکولم-کایم کلم (115 کلومیٹر)، کایم کلم-تروواننت پورم (105 کلومیٹر) اور تروواننت پورم-ناگرکوئل (71 کلومیٹر) شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زمین کا حصول کئی منصوبوں کی پیش رفت میں ایک اہم چیلنج بنا ہوا ہے۔ کیرلم میں مختلف منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 618 ہیکٹیئر زمین درکار ہے، جس میں سے صرف 78 ہیکٹیئر یعنی 13 فیصد زمین حاصل کی جا سکی ہے۔ مزید 540 ہیکٹیئر زمین حاصل کرنا باقی ہے۔ ریلوے نے زمین کے حصول کے لیے کیرلم حکومت کو پہلے ہی 1,976 کروڑ روپے جمع کرا دیے ہیں۔

زمین کے حصول میں تاخیر کے باعث انگمالی-سبری مالا نئی ریلوے لائن سمیت بعض منصوبوں کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ ریلوے پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ منصوبوں کی تکمیل میں زمین کا حصول، جنگلات اور دیگر قانونی منظوریوں کے علاوہ مقامی حالات بھی اہم عوامل ہوتے ہیں۔

کیرلم میں 145 روڈ اوور برج (آر او بی) اور روڈ انڈر برج (آر یو بی) کی تعمیر 4,786 کروڑ روپے کی لاگت سے کی جا رہی ہے۔ ان میں 136 آر او بی، آٹھ آر یو بی اور ایک پیدل سب وے شامل ہیں۔ ان میں سے 52 منصوبوں میں ریاستی حکومت سے متعلق وجوہات کی بنا پر تاخیر ہو رہی ہے۔ ان میں 34 معاملات زمین کے حصول، 13 میں الائنمنٹ کو حتمی شکل دینے اور پانچ میں ایجنسی مقرر نہ کیے جانے سے متعلق ہیں۔

مسافر سہولتوں اور رابطے کے حوالے سے ویشنو نے کہا کہ کیرالہ میں چھ وندے بھارت اور چھ امرت بھارت ایکسپریس ٹرین خدمات چل رہی ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ریاست میں 180 سے زیادہ نئے اسٹاپ دیے گئے ہیں، جب کہ گزشتہ دو برسوں میں 22 نئی ٹرین خدمات شروع کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایرناکولم-کایم کلم، شورنور-نیلامبور روڈ، کولم-ایرناکولم اور پالکڑ-پولّچی سمیت مختلف روٹس پر میمو خدمات شروع یا توسیع کی گئی ہیں۔

امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت کیرالہ کے 35 اسٹیشنوں کی ازسرنو تعمیر پر مجموعی طور پر 3,111 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے 16 اسٹیشنوں پر کام مکمل ہوچکا ہے۔ ان میں انگمالی فار کالڈی، چالکوڈی، چنگناشیری، چیرائین کیجھ، فیروک، گوروایور، کٹی پورم، ماویلی کارا، نیلامبور روڈ، پرپنگاڈی، شورنور، تھلاسری، تریور، تریپونیتھورا، وڈکارا اور وڈکّن چیری شامل ہیں۔

ریلوے کے مطابق، کیرالہ میں 2014 کے بعد سے 493 کلومیٹر ریلوے لائن کی برقی کاری کی جا چکی ہے اور ریاست کے مجموعی 1,046 روٹ کلومیٹر طویل ریلوے نیٹ ورک کو اب بجلی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ کیرلم میں ریلوے بنیادی ڈھانچے کے لیے بجٹ میں مختص رقم میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande