ایران کا آبنائے ہرمز کے قریب جاسوسی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، امریکہ اورایران میں کشیدگی برقرار
ریاض، 21 ستمبر(ہ س)۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک جاسوسی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ایرانی فوج کے مطابق اتو
ایران کا آبنائے ہرمز کے قریب جاسوسی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، امریکہ اورایران میں کشیدگی برقرار


ریاض، 21 ستمبر(ہ س)۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک جاسوسی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ایرانی فوج کے مطابق اتوار کی شام مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے چھ بجے ’’اوربیٹر‘‘ طرز کے ایک جاسوسی ڈرون کو آبنائے ہرمز کے اوپر مقامی فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے فوج کے حوالے سے بتایا کہ ڈرون کو ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں گرایا گیا۔

ڈرون مار گرائے جانے کا اعلان ایک ایسے مرحلے میں کیا گیا ہے جب ایران کو خدشہ ہے کہ امریکہ اس کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ ایرانی مسلح افواج کی مشترکہ کمان نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ اسے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن نئی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ایرانی کمان نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کو مسلسل نشانہ بنائے گا۔اسی دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی شرائط امریکی فریق تک پہنچا دی ہیں۔ ان کے مطابق جب تک ایران کے مطالبات اور حقوق کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور امریکی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں ہوتا، اس وقت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا سابقہ مذاکراتی صورتحال بحال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کوئی بڑا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے میں مختلف آپشنز زیر غور ہیں، جن میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی، اسے اقتصادی دباؤ کے ذریعے کمزور کرنا یا کسی معاہدے اور سمجھوتے تک پہنچنا شامل ہے۔

ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو ایک مرتبہ پھر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنے طرز عمل میں بہتری لانی چاہیے۔ انہوں نے ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande