
نئی دہلی، 21 ستمبر (ہ س)۔
معیشت کے محاذ پر تشویش پیدا کرنے والی خبر سامنے آئی ہے۔ ملک کی نو بڑی بنیادی صنعتوں (کور سیکٹر) کی شرحِ نمو اگست میں سست ہوکر 4.8 فیصد رہ گئی، جو جولائی میں 5.0 فیصد تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق کوئلہ، قدرتی گیس، خام تیل اور کھاد کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے بنیادی صنعتوں کی پیداوار کی رفتار سست پڑی ہے۔
وزارتِ تجارت و صنعت کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بنیادی صنعتوں کی پیداوار میں گزشتہ سال اگست میں 6.2 فیصد اور رواں سال جولائی میں 5 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا تھا۔ یہ اعداد و شمار نظرثانی شدہ پیمائشی سیریز کے تحت تیسری مرتبہ جاری کیے گئے ہیں، جس میں 2022-23 کو بنیادی سال کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یہ نئی سیریز جون میں متعارف کرائی گئی تھی، جس نے سابقہ 2011-12 کے بنیادی سال کی جگہ لی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال 2026-27 میں اپریل سے اگست کے دوران ان اہم بنیادی صنعتوں کی شرحِ نمو 4.3 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال 2025-26 کی اسی مدت میں 2.4 فیصد تھی۔
ملک کی نو بڑی بنیادی (کور) صنعتیں صنعتی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔ پہلے آٹھ بنیادی صنعتیں شمار کی جاتی تھیں، لیکن اب ان میں لوہے کی کان (آئرن ) کو شامل کیے جانے کے بعد ان کی تعداد نو ہوگئی ہے۔ ان میں کوئلہ، خام تیل، قدرتی گیس، پیٹرولیم ریفائنری مصنوعات، کھاد، اسٹیل، سیمنٹ، بجلی اور لوہے کی کان شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ