جعلی سم  اورآئی ایم ای آئی میں ردوبدل پر تین سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ: محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کی ہدایت
نئی دہلی، 21 ستمبر (ہ س): ٹیلی کمیونیکیشن محکمہ نے شہریوں کو چوکس رہنے کا مشورہ دیا ہے اور سم کارڈ کے دھوکہ دہی پر مبنی اجراء، ٹیلی کام شناخت کنندگان کے غلط استعمال اور موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبروں میں ردوبدل کو سنگین جرائم قرار دیا ہے۔ پ
جعلی سم  اورآئی ایم ای آئی میں ردوبدل پر تین سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ: محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کی ہدایت


نئی دہلی، 21 ستمبر (ہ س): ٹیلی کمیونیکیشن محکمہ نے شہریوں کو چوکس رہنے کا مشورہ دیا ہے اور سم کارڈ کے دھوکہ دہی پر مبنی اجراء، ٹیلی کام شناخت کنندگان کے غلط استعمال اور موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبروں میں ردوبدل کو سنگین جرائم قرار دیا ہے۔ پیر کے روز، محکمہ نے کہا کہ ایسے معاملات میں تین سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

ٹیلی کمیونیکیشن کی وزارت کے مطابق، چھتیس گڑھ میں ایک واقعہ سامنے آیا جہاں ایک 'پوائنٹ آف سیل' ایجنٹ نے لوگوں کی معلومات یا رضامندی کے بغیر ان کی شناختی دستاویزات کا غلط استعمال کرتے ہوئے 25 موبائل کنکشنز فعال کر دیے۔ تحقیقات کے بعد، متعلقہ ایجنٹ کو بلیک لسٹ کر دیا گیا۔ مشکوک موبائل کنکشنز کی تصدیق کی گئی اور جو نمبر تصدیق کے عمل میں پورے نہیں اترے، انہیں غیر فعال کر دیا گیا۔

محکمہ نے کہا کہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 2023 کے تحت، جعلی دستاویزات کی بنیاد پر سم حاصل کرنا، اپنے نام پر جاری کردہ سم کسی دوسرے شخص کو منتقل کرنا یا کرائے پر دینا، 'کالنگ لائن آئیڈینٹٹی' میں ردوبدل کرنا اورآئی ایم ای آئی نمبروں کو تبدیل کرنا قابلِ سزا جرائم ہیں۔

محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ باقاعدگی سے اپنے نام پر جاری کردہ موبائل نمبروں کی جانچ کریں اور اگر کوئی غیر مجاز سم فعال پائی جائے تو فوری کارروائی کریں۔ اس مقصد کے لیے 'سنجار ساتھی' پورٹل اور موبائل ایپ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

محکمہ کے مطابق، شہری اپنے نام پر جاری تمام موبائل کنکشنز کی تفصیلات دیکھنے اور غیر ضروری یا مشکوک نمبروں کو غیر فعال کرنے کی درخواست دینے کے لیے 'سنجار ساتھی' کا استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ پورٹل موبائل ہینڈ سیٹ کے آئی ایم ای آئی کی تصدیق کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے، جس سے صارفین موبائل کے برانڈ، ماڈل اور مینوفیکچرر سے متعلق تفصیلات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande