سونیا گاندھی ووٹر لسٹ معاملے میں سیشن کورٹ نے مجسٹریٹ کورٹ کا حکم منسوخ کر دیا
نئی دہلی، 21 ستمبر (ہ س)۔ دہلی کی راو¿ز ایونیو کورٹ کی سیشن عدالت نے پیر کے روز مجسٹریٹ کورٹ کے اس حکم کو منسوخ کر دیا، جس میں کانگریس رہنما سونیا گاندھی کے خلاف ووٹر لسٹ میں مبینہ طور پر نام درج کرانے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم د
سونیا گاندھی ووٹر لسٹ معاملے میں سیشن کورٹ نے مجسٹریٹ کورٹ کا حکم منسوخ کر دیا


نئی دہلی، 21 ستمبر (ہ س)۔

دہلی کی راو¿ز ایونیو کورٹ کی سیشن عدالت نے پیر کے روز مجسٹریٹ کورٹ کے اس حکم کو منسوخ کر دیا، جس میں کانگریس رہنما سونیا گاندھی کے خلاف ووٹر لسٹ میں مبینہ طور پر نام درج کرانے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

اسپیشل جج وشال گوگنے نے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ کے پاس بھیجتے ہوئے کہا کہ اس پر ازسرِنو غور کیا جائے اور منطقی حکم جاری کیا جائے۔

سیشن کورٹ نے کہا کہ مجسٹریٹ کورٹ کا حکم منطقی نہیں تھا۔ عدالت نے متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے اس معاملے پر 29 ستمبر کو دوبارہ سماعت کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سیشن کورٹ نے 25 جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ مجسٹریٹ کورٹ کے حکم کو وکیل وکاس ترپاٹھی نے سیشن کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس سے قبل 11 ستمبر کو ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ویبھو چورسیا نے عرضی خارج کر دی تھی۔

عرضی میں کہا گیا تھا کہ ووٹر لسٹ میں سونیا گاندھی کا نام 1980 میں ہی درج کر دیا گیا تھا، جب کہ وہ 1983 میں ہندوستانی شہری بنی تھیں۔ عرضی کے مطابق سونیا گاندھی کا نام نئی دہلی اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ میں 1980 میں ہی شامل کر دیا گیا تھا، جب کہ اس وقت وہ ہندوستان کی شہری بھی نہیں تھیں۔

عرضی میں کہا گیا کہ 1982 میں سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا اور بعد میں 1983 میں دوبارہ شامل کیا گیا۔ سونیا گاندھی 1983 میں ہندوستانی شہری بنی تھیں۔

اسی بنیاد پر عدالت سے سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ تاہم مجسٹریٹ کورٹ نے اس معاملے میں نہ تو سونیا گاندھی کو نوٹس جاری کیا تھا اور نہ ہی دہلی پولیس کو نوٹس دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande